زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 56
زریں ہدایات (برائے طلباء) 56 جلد سوم ایک دفعہ رات کو تار آیا۔پہرہ دار نے صاحب کو اطلاع دی۔اس پر وہ خود اٹھ کر آیا اور کہا کہ کوئی تار آیا ہے؟ بیرے نے کہا آیا تو ہے مگر میں نے یہ سمجھ کر کہ آپ آرام کر رہے ہوں گے اطلاع نہ دی۔اس نے کہا تم فوراً مجھ کو بتا دیا کرو لیکن ہندوستانیوں کی جب سلطنت گئی تو وہ عیش و عشرت میں مصروف تھے۔حکومت قسطنطنیہ کے جو حصے بخرے ہوئے اس کی وجہ بھی انہی اخلاق کی کمی ہے۔اگر ترکوں کی اخلاقی حالت اچھی ہوتی تو آج ان مسلمانوں کو یہ دن دیکھنا نہ پڑتا۔جب ترکوں کے اخلاق اچھے تھے وہ فاتح تھے اور دنیا ان سے ڈرتی تھی لیکن اب جبکہ ان میں اعلیٰ اخلاق نہ رہے تو حکومت بھی نہ رہی۔کیونکہ جب تک حکومت کرنے کے اخلاق نہ ہوں حکومت نہیں رہ سکتی۔ٹرانسوال والوں کو انگریزوں نے شکست دی مگر وہ اس خوبی سے لڑے اور ایسے لڑے کہ باوجود مفتوح ہونے کے فتح انہی کی رہی۔انگریزوں نے معاہدہ میں لکھا کہ ہم تین سال میں ہوم رول دے دیں گے چنانچہ تیسرے سال انہوں نے مکمل ہوم رول دے دیا۔اب تم باہر جاؤ گے تو تمہارے کانوں میں خلافت خلافت کی بھی آوازیں پہنچیں گی۔تمہارے لئے بہت آسان ہے کہ تمہارا خلیفہ ہے اور اس کی خلافت روحانی ہے اس کو کوئی کیا چھین سکتا ہے۔باقی رہی ترکی حکومت سو اس کو اسی چیز کے نہ رہنے نے کھویا جس کے ہونے سے انہوں نے یورپ میں فتوحات حاصل کی تھیں۔اب ان کے کمانڈروں اور وزیروں کی ایسی حالت ہو گئی ہے کہ حریف کے افسروں سے مل جاتے ہیں اور اپنی ذات کے لئے رشوت لے کر دشمن کے آگے ہتھیار ڈال دیتے اور ملک کو تباہ کر دیتے ہیں۔روس اور روم کی وہ پہلی جنگ جس میں ترکوں کو غالباً اولاً شکست ہوئی مگر اُس وقت جبکہ ترکی فوجوں نے زار کی فوجوں کو بالکل بے دم کر دیا تھاتی کہ زار کواپنی افواج دیکھنے کے لئے خود آنا پڑا ترک جرنیل نے ہیں لاکھ پونڈ روسیوں سے رشوت لے کر اپنی فتح کو شکست سے بدل دیا۔زار اور اس کا باڈی گارڈ جب ترکوں کی زد میں آیا تو توپ خانہ کے افسر نے کہا کہ اس وقت مجھے گولہ باری کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ میں سب کو فنا کر دوں لیکن جرنیل نے کہا ابھی ٹھہرو۔پھر کئی بار گولہ باری کرنے کی اجازت طلب کی گئی لیکن وہ یہی کہتا رہا کہ ابھی ٹھہر دشتی کہ زار اور اس کے ساتھی زد سے گزر گئے