زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 39
زریں ہدایات (برائے طلباء) 39 جلد سوم غیر احمدی صاحبان کہتے ہیں کہ یہ جواب حضرت عیسی قیامت کو دیں گے ہم کہتے ہیں خواہ قیامت کو یا اس سے بھی کروڑوں سال بعد میں دیں ہم جو اس سے نتیجہ نکالتے ہیں وہ کسی صورت میں غلط نہیں ہو سکتا۔کیونکہ ہم اس سے صرف یہ نکالتے ہیں کہ حضرت عیسی کہتے ہیں کہ جب تک میں ان میں تھا اور میری روح نہیں نکلی تھی اُس وقت میری امت نہیں بگڑی تھی۔مگر جب میری روح قبض کرلی گئی تو اس کے بعد کا مجھے علم نہیں۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ عیسائی بگڑے ہیں یا نہیں؟ اگر نہیں بگڑے تو اسلام جھوٹا ہوتا ہے اور اس کے آنے کی ضرورت ہی نہیں رہتی لیکن قرآن کریم سے ثابت ہے کہ عیسائی بگڑ چکے ہیں اور جب عیسائی بگڑ چکے ہیں تو ثابت ہو گیا کہ حضرت عیسی وفات بھی پاچکے ہیں۔یہ آیت وفات مسیح کو ایسی صفائی کے ساتھ ثابت کرتی ہے کہ کسی اور طرف جانے کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔اس لئے اس کو اچھی طرح پیش کرنا چاہئے۔اور بتانا چاہئے کہ دیکھو قرآن کریم میں کسی اور جگہ یہ تو لکھا نہیں کہ حضرت عیسی زندہ ہیں اور اس آیت سے صاف طور پر ثابت ہوتا ہے کہ وفات پاچکے ہیں۔پھر تم کیوں اس کو نہیں مانتے۔بعض لوگ کہا کرتے ہیں کہ اور آیات کو لو اور دیکھو ان سے کیا نکلتا ہے۔انہیں کہنا چاہئے کیا یہ قرآن کی آیت نہیں ؟ اگر ہے تو جب اس سے یقینی طور پر وفات مسیح ثابت ہو جاتی ہے تو اور کوئی آیت اس کے خلاف کس طرح ہو سکتی ہے۔اور اگر اس کے خلاف ہو سکتی ہے تو پھر یہ کہو کہ یہ قرآن کی آیت ہی نہیں کسی نے ملا دی ہے۔مگر جب ایسا نہیں ہے تو اس کو چھوڑ کر اوروں کی طرف جانے کی کیا ضرورت ہے۔کیونکہ اس آیت سے صاف طور پر ثابت ہے کہ حضرت عیسی وفات پاچکے۔تو اسی کو پیش کرنا چاہئے۔دوسری آیات میں غیر احمدی کئی قسم کے دھو کے دے سکتے ہیں اور جھگڑا ڈال سکتے ہیں مگر اس میں ان کے لئے کوئی راہ نکلنے کی نہیں ہے۔ایک اور بات یہ ہے کہ بہت سے نادان لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات کے متعلق کچھ ایسی کچی باتیں پیش کرتے ہیں جو بچے بھی نہیں کرتے۔کہتے ہیں مرزا صاحب نے لکھا ہے خدا نے قلم کا چھینٹا دیا اور وہ چھینٹے ان کے کپڑوں پر آپڑے۔کیا خدا بھی قلم پکڑا