زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 28 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 28

زریں ہدایات (برائے طلباء) 28 جلد سوم کامیابی حاصل نہیں ہو سکے گی۔پس تم آج ہی اس بات کا فیصلہ کر لو کہ جس خوشی اور مسرت سے تم اپنے ان بھائیوں کو ایڈریس دیتے ہو جنہوں نے اپنی زندگی دین کے لئے وقف کر دی ہے وہی خوشی کا وقت اپنے اوپر لانے کے لئے تیار رہو۔اور اگر تم میں سے کسی کو کسی کام پر لگایا جائے تو وہ بڑی خوشی سے کرے اور کسی بات کی پرواہ نہ کرے۔یہ ایڈریس جو تم نے پڑھا ہے تمہیں کیا انسانیت کے لحاظ سے اور کیا عقل کی رو سے اس بات کے لئے مجبور کر رہا ہے کیونکہ یہ بہت بری بات ہے کہ انسان دوسرے کو تو کہے کہ یہ کام جو تم کرنے لگے ہو بہت اچھا ہے اور مجھے اس سے بہت بڑی خوشی ہوئی ہے لیکن جب وہی کام کرنے کے لئے اس کی باری آئے تو پیچھے ہٹ جائے۔پس اگر تم نے سچے دل سے مفتی صاحب کے ساتھ اپنی محبت کا اظہار کیا ہے تو اس بات کے لئے بھی تیار رہو کہ جب تمہیں دینی کام کے لئے بلایا جائے یا کہیں بھیجا جائے تو بڑی خوشی سے دوڑ آؤ۔جب تک سب میں یہ روح پیدا نہ ہوگی کام کرنے والے آدمی بہت مشکل سے ملیں گے۔ہاں یہ خوب یا درکھو کہ کام کرنے والے تو مل ہی رہیں گے کیونکہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے وعدہ کیا ہے کہ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔3 مگر تمہیں یہ موقع پھر نہیں ملے گا۔دیکھو امریکہ کے گزشتہ لیڈروں کو وہاں کے لوگ کس عزت کے ساتھ یاد رکھتے ہیں۔جب دنیا کے لیے کام کرنے والوں کے نام اس طرح باقی رہتے ہیں تو پھر دین کے لئے اپنی زندگی وقف کرنے والوں کے نام کیوں نہ باقی رہیں گے۔پس یہ خیال ہر گز نہ کرو کہ تم اگر خدا کے راستہ میں کوشش کرو گے تو وہ رائیگاں جائے گی بلکہ اس کا تمہیں بہت بڑا بدلہ ملے گا۔میں دعا کرتا ہوں کہ آج جس خوشی اور مسرت کا اظہار تم نے لفظوں اور اپنے مال سے کیا ہے خدا اس کو عملی طور پر بھی پورا کرنے کی توفیق دے۔آمین ثم آمین۔(الفضل 13 مارچ1917ء) 1 وَإِذَا حُمِّيْتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا (النساء: 87) 2 الرحمان: 61 تذکرہ صفحہ 260 ایڈیشن چہارم 2004 ء