زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 321 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 321

زریں ہدایات (برائے طلباء) 321 جلد سوم استعاره سن کر شوق پیدا ہوا کہ ہم بھی کبھی اسے استعمال کریں گے۔یہ چونکہ گاؤں کا رہنے والا تھا اور اس کا نوکر بھی دیہاتی تھا اس نے نوکر کو سکھلانا شروع کیا۔روزانہ کچھ چاول داڑھی پر گرا لیتا اور نوکر سے کہتا کہو! د بلبل بر شاخ گل نشستہ سکھاتا رہا۔سکھاتا رہا۔مگر مصیبت یہ تھی کہ اس نوکر کو یاد نہ رہتا اور بار بار سکھانے کے باوجود وہ بھول جاتا۔مدتوں کے بعد کسی شہر میں دعوت ہوئی۔یہ بھی چونکہ معزز زمیندار تھا اسے بھی دعوت نامہ آیا۔اب اس کی امید بر آئی اور نوکر کو روزانہ سبق ملنا شروع ہوا کہ بلبل بر شاخ گل نشسته "۔آخر دعوت کھانے اپنے نوکر سمیت چلے۔راستے میں اس سے پوچھتے جاتے جب داڑھی پر چاول گریں گے تو تم کیا کہو گے۔کبھی تو وہ کہہ دیتا وہی پھول والی بات اور کبھی کہہ دیتا بلبل کا ذکر۔اس پر وہ ناراض ہوتا اور کہتا تو بڑا نالائق ہے چھوٹی سی بات یاد نہیں رکھتا۔کہنا در بلبل بر شارخ گل نشسته آخر دعوت کھانے جب سب لوگ بیٹھ گئے اور کھانا چنا جانے لگا تو اس نے سوچا کہ ایک دفعہ نوکر کو پھر سبق یاد کرا دینا چاہئے۔ایسا نہ ہو کہ وقت پر بھول جائے۔قضائے حاجت کے بہانے سے باہر آیا اور پاخانے کے دروازہ پر کھڑے ہو کر نوکر سے کہا نیک بخت ! تجھے پتہ ہے جب میری داڑھی پر چاول گریں گے تو تو کیا کہے گا ؟ اس نے کہا مجھے تو وہ بات بھول گئی ہے۔کہنے لگا تو بڑا ہی کند ذہن ہے۔کہنا بلبل بر شارخ گل نشستہ جب کھانا کھانے بیٹھا تو دو تین چاول اپنی داڑھی پر گر الئے اور نوکر کی طرف دیکھنے لگا مگر وہ فقرہ بھول جانے کی وجہ سے بول نہ سکا۔ادھر اس نے سمجھا چونکہ میں نے ایک دو چاول داڑھی پر گرائے ہیں اس لئے شاید اسے نظر نہیں آتے۔اس پر اس نے ایک بڑا سا لقمہ اٹھا کر داڑھی پر رکھ لیا اور آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر نو کر کی طرف دیکھنے لگا مگر وہ پھر بھی نہ بولا۔اور جب بالکل ضبط نہ ہو سکا تو کہنے لگا کمبخت ! بولتا کیوں نہیں۔نوکر نے را کر کہا وہ پاخانے والی بات جو آپ نے بتائی تھی۔اس پر ساری مجلس اڑن کبوتر بن گئی۔تو ایسے طالب علموں کو تقریریں نہ رٹائی جائیں جو سکھانے کے بعد بھی یہی کہہ دیں ہمیں تو یاد نہیں رہا۔ایسے لڑکے ہوں جو ذہین ہوں۔انہیں تقریر میں رٹا دی جائیں اور پھر