زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 320
زریں ہدایات (برائے طلباء) 320 جلد سوم لیں۔اس طریق پر جب مجمع عام میں تقریر کی جائے گی تو سننے والوں کی طبائع پر نا خوشگوار اثر نہیں پڑے گا۔بچپن میں ایک دفعہ میں نے بھی لکھی ہوئی تقریر پڑھی تھی مگر کہتے ہیں ہونہار پر وا کے چکنے چکنے پات‘ اللہ تعالیٰ نے مجھ میں قابلیت بھی رکھی تھی اس لئے میں نے احتیاط کے ساتھ پڑھی۔وہ پہلی تقریر مجھے شیخ یعقوب علی صاحب نے لکھ کر دی تھی۔میری اُس وقت دس گیارہ سال کی عمر ہوگی۔اُس وقت یہاں بورڈنگ کی یہ عمارتیں نہیں تھیں۔انہوں نے تقریر لکھ دی اور میں نے پڑھی۔مضمون چونکہ تجربہ کار آدمی کا لکھا ہوا تھا اس لئے بڑی تعریف ہوئی۔مگر جب کوئی تعریف کرتا تو مجھے یوں معلوم ہوتا کہ وہ مجھے تھپٹر مار رہا ہے۔کیونکہ میرا وہ اپنا مضمون نہیں تھا۔میں دل میں بہت شرمندہ ہوا۔اور میں نے عہد کیا کہ اب آئندہ میں کسی کا مضمون ہر گز نہیں پڑھوں گا بلکہ خود تقریر تیار کروں گا۔اُس وقت کی جرأت اور دلیری میرے کام آئی اور پھر میں نے خود تقریریں کرنی شروع کر دیں۔مگر میں کہتا ہوں کہ اگر طالب علم ایسے نہیں ملتے جو اچھی تقریر میں کر سکیں تو استادوں کا فرض ہے کہ وہ تقریروں کو رٹا دیں۔دس بارہ یا پندرہ یا ہمیں دفعہ وہ تقریر انہیں پڑھا دیں۔مگر اتنی ضرور احتیاط کر لیں کہ وہ ایسے لڑکے نہ ہوں جو پندرہ بیس دفعہ یاد کرانے کے با وجود بھی بھول جانے والے ہوں۔چونکہ یہ بچوں کی مجلس ہے اس لئے ایک لطیفہ سنا کر میں اس تقریر کو بند کرتا ہوں۔کہتے ہیں کوئی شخص تھا اسے لطیفہ سنجی 2 کی عادت تھی اور لطائف سننے اور سنانے کا اسے بہت شوق تھا۔وہ ایک دن اپنے کسی زمیندار معزز دوست سے ملنے کے لئے گیا۔زمیندار نے اس کی دعوت کی۔چونکہ وہ امیر تھا اور شائستہ بھی اس کا نوکر بھی بہت سمجھ دار تھا کھانا کھاتے ہوئے دو تین چاول کے دانے مہمان کی داڑھی پر گر گئے۔نوکر نے ادھر توجہ ولانے کے لئے کہا " بلیل بر شاخ گل نشستہ اس نے داڑھی کو شارخ گل سے اور چاولوں کو بلبل سے تشبیہ دی۔گویا استعارے میں یہ بات کہہ دی کہ آپ کی داڑھی پر چاول گرے ہوئے ہیں۔یہ سن کر اس نے داڑھی پر ہاتھ پھیرا اور چاول گر گئے۔میز بان کو یہ