زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 319 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 319

زریں ہدایات (برائے طلباء) 319 جلد سوم محنت کرے تو یہ بچہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک دن نہایت عمدہ حافظ بن سکتا ہے۔سوائے ان دو کے میں اور کسی کی تعریف نہیں کر سکتا۔چونکہ مجھے اس وقت بخار ہو رہا ہے اس لئے جو باتیں پہلے مجھے معمولی تکلیف دیا کرتی تھیں آج تو مجھے وہ کالے کھاتی تھیں۔ہر غلطی کے ساتھ میری نبض کی ایک حرکت زیادہ ہو جاتی تھی۔اس صورت میں میں کہنا چاہتا ہوں دوست میرے ان تلخ ریمارکس کا زیادہ گہرا اثر لے کر نہ جائیں۔تبلیغ کا کام جوان بچوں نے دورانِ سال میں کیا وہ بہت مبارک ہے۔اور جو نقائص ہیں وہ بھی اگر ذمہ دار افسر توجہ کریں تو دور ہو سکتے ہیں۔اگر سکول میں اچھی نظم پڑھنے والا کوئی نہیں ملتا تو نظم مت پڑھائیں۔کوئی ضرورت نہیں کہ ایک ایسے شخص کو نظم پڑھنے کے لئے کھڑا کر دیا جائے جس کی آواز نظم پڑھنے کے قابل ہی نہ ہو۔میری آواز بچپن میں بہت اچھی ہوتی تھی اور میں بہت شعر پڑھا کرتا تھا۔مگر اب میری آواز خراب ہو گئی ہے اس لئے میں شعر نہیں پڑھتا۔اور اگر پڑھوں تو اپنی آواز مجھے خود ہی بری معلوم ہوتی ہے۔میں پہلے تہجد کے وقت جب تلاوت کیا کرتا تھا تو چونکہ آواز اچھی تھی اس لئے مجھے اتنا لطف آتا کہ میں بعض دفعہ تین تین گھنٹے تلاوت کئے جاتا تھا مگر اب میں آہستہ تلاوت کرتا ہوں کیونکہ آواز خراب ہو گئی ہے۔اور تھوڑا پڑھتا ہوں کیونکہ اگر زیادہ پڑھوں تو آواز اور زیادہ خراب ہو جاتی ہے۔پس میں بالکل نہیں سمجھ سکتا کہ ہمیں کیا مجبوری پیش آسکتی ہے کہ ہم ضرور ایسے لڑکوں سے جلسہ میں نظم پڑھائیں جن کی نہ آواز اچھی ہے اور نہ صحیح الفاظ پڑھ سکتے ہیں اور لوگوں کے کانوں پر ظلم کریں۔پھر تقریر کے لئے اس امر کو مد نظر رکھنا چاہئے کہ اگر اچھی طرح تقریر کرنے والے طالب علم نہ ملیں تو لڑکوں کو پہلے سے تقریریں رٹا دینی چاہئیں۔اس طریق پر بھی کئی اچھے لیکچرار پیدا ہو جاتے ہیں۔مجھے علم ہے کہ ہماری جماعت میں بعض آجکل اچھے بولنے والے ہیں مگر انہوں نے ابتدا میں اسی طرح مشق کی۔استادوں کو چاہئے کہ پہلے وہ خود لڑکوں کی تقریریں سنیں۔اور جن حروف کا وہ غلط تلفظ ادا کریں انہیں ٹھیک کر دیں اور پھر کہہ دیں کہ وہ اس تقریر کو خوب اچھی طرح رٹ