زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 310 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 310

زریں ہدایات (برائے طلباء) 310 جلد سوم ہم اسے لڑا کا نہیں کہتے۔لیکن جب یہ عادت حد سے زیادہ بڑھ جائے تو ا سے لڑا کا ہی کہا جائے گا۔اسی طرح بعض اوقات ڈاکو بھی رحم کریتے ہیں لیکن انہیں رحم دل نہیں کہا جاتا۔لیکن جب ان کا رحم زیادہ بڑھ جائے تو انہیں بھی رحم دل کہہ دیا جاتا ہے۔اسی طرح کفر ہے۔ہر چیز کے مقابلہ میں کفر ہے۔جب تک وہ محدود حالت کے اندر ہو ہم کہتے ہیں اس میں فلاں برائی ہے لیکن جب اس میں برائی حد سے بڑھ جائے تو اسے برا کہا جاتا ہے۔اسی طرح جب نیکی کمال کو پہنچ جائے تو اسے نیک کہا جاتا ہے۔دنیا میں کون سا ایسا پھل ہے جس میں کوئی نقص یا کمی نہ ہو لیکن عام طور پر کہا یہی جاتا ہے کہ فلاں پھل بہت اچھا ہے۔پھر جب وہ سڑ جائے تو کہتے ہیں خراب ہو گیا۔حالانکہ اس میں بعض دانے اچھے بھی ہوتے ہیں۔پس جب یہ صحیح ہے کہ نیکی کے مقابل میں کفر ہے تو ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ ہمارے بھائی اس ضرر سے بچ سکیں۔اگر ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارا ایک بھائی زہر کھا رہا ہے اور ہم اسے روکتے نہیں تو اس کے یہی معنے ہیں کہ یا تو ہمیں یہ حقیقت ہی معلوم نہیں کہ زہر کیا چیز ہے اور یا پھر ایسے بزدل اور کمینے ہیں کہ ایک بھائی کا نقصان دیکھ کر ہمارے اندر جوش نہیں پیدا ہوتا۔ہر شخص کا ایک حلقہ اثر ہوتا ہے اور طلباء کا بھی ہوتا ہے۔اس لئے اپنے اپنے حلقہ اثر میں ضرور تبلیغ کا فرض ادا کرنا چاہئے۔عام اصول کے لحاظ سے دیکھا جاتا ہے کہ اچھا پیج اچھا پودا اگاتا ہے اور براپیچ بر پودا۔بسا اوقات اس کے الٹ بھی ہوتا ہے۔مگر عام قاعدہ یہی ہے۔اسی طرح یہ ہوسکتا ہے کہ ہماری جماعت میں بھی بعض کمزور ہوں لیکن عام قاعدہ یہی ہے کہ نبیوں کی جماعتوں میں ترقی کی قابلیت زیادہ ہوتی ہے۔اگر چہ ہو سکتا ہے کہ ان میں سے بھی بعض گر جائیں۔پس اگر ہماری قابلیت کے معیار سے لوگ گر جائیں تو ہمارا فرض ہے کہ انہیں اوپر اٹھائیں۔اپنے اندر یہ جذب پیدا کر کے دیکھ لوضرور اثر ہوگا۔میں سمجھتا ہوں اب کافی وقت دے چکا ہوں اور میری طبیعت بھی علیل ہے اس کے علاوہ بعض نے اس گاڑی سے جانا بھی ہوگا۔اس لئے میں اسی پر تقریر ختم کرتا ہوں۔یار زندہ صحبت باقی۔اللہ تعالیٰ چاہے گا تو کسی دوسرے موقع پر دوسری باتیں بھی بیان کروں گا۔