زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 303 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 303

زریں ہدایات (برائے طلباء) 303 جلد سوم آپ چھوٹے بچے کو ایک تھپڑر پورے زور سے ماریں لیکن ہاتھ اس کے جسم پر اتنے زور کا ہی پڑے گا جسے وہ برداشت کر سکے۔لیکن مضبوط آدمی کو مارو تو اسے بہت زیادہ چوٹ محسوس ہوگی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اندرونی اعصاب اندازہ کر رہے ہوتے ہیں جس کے مطابق قوت صرف ہوتی ہے اور نتائج مختلف نکلتے ہیں۔چونکہ ہوش مند انسان کے دل میں ایک مخفی خیال یہ بھی ہوتا ہے کہ کہیں زیادہ زور پڑنے سے میرے اعصاب ٹوٹ نہ جائیں اس لئے وہ کچھ قوت بطور ریز رو فورس محفوظ رکھتا ہے اور اُسے خرچ نہیں کرتا۔لیکن پاگل کے اندر چونکہ یہ خیال نہیں ہوتا اس لئے وہ پوری طاقت صرف کر دیتا ہے۔ایک دفعہ یہاں ایک عورت پاگل ہوگئی۔حضرت خلیفہ امسیح الاول عورتوں میں درس قرآن دے رہے تھے کہ اس نے آکر کہا چونکہ یہاں سب لوگ میرے دشمن ہو گئے ہیں اور میرے در پئے آزار ہیں اس لئے میں اب زندہ رہنا نہیں چاہتی۔یہ کہہ کر اس نے کھڑ کی کھولی تا نیچے گو د جائے۔حضرت خلیفہ اول نے عورتوں سے کہا اسے پکڑ لو۔کئی ایک عورتیں اسے لپٹ گئیں لیکن وہ ان سب سے چھوٹ چھوٹ جاتی۔اس پر آپ نے خود اسے پکڑا۔ایسے موقع پر پردہ وغیرہ کا تو کوئی سوال ہی نہیں رہ جاتا مگر باوجود اس کے کہ آپ ایک قومی اور مضبوط آدمی تھے اور یہ آپ کی وفات سے سات آٹھ سال قبل کا واقعہ ہے اُس وقت آپ کا جسم مضبوط تھا مگر پھر بھی میں تو وہاں نہیں تھا مجھے گھر کی عورتوں نے بتایا، وہ آدھی آدھی کھڑکی سے لٹک جاتی تھی۔اس کی وجہ یہی تھی کہ حضرت خلیفہ اول کی طاقت محدود دائرہ میں خرچ ہورہی تھی۔کیونکہ آپ کی عقل ریز رو فورس کے استعمال کی اجازت نہ دیتی تھی اور وہ بوجہ فاتر العقل ہونے کے تمام قوت صرف کر رہی تھی۔تو جتنا بڑا انسان کا اندازہ ہواسی کے مطابق قوت بھی ظاہر ہوتی ہے۔اسی سے دھوکا کھا کر بعض لوگوں نے ایک نیا علم مسمریزم جاری کیا ہے۔تھیو سافیکل (THEOSOPHICAL) سوسائیٹیاں اسی خیال کی تنویع ہیں۔جوں جوں انسان کے حوصلے بلند اور ارادے وسیع ہوتے ہیں اسی کے مطابق وہ قوت بھی صرف کر سکتا ہے۔اسلام تعلیم دیتا ہے کہ ارادے بلند رکھو لیکن ان کے مطابق عمل بھی کرو۔اُڑو! جتنا اڑ سکتے ہو اور نیت یہ ہو کہ ہم نے آسمان پر پہنچنا ہے۔یہ