زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 296
زریں ہدایات (برائے طلباء) 296 جلد سوم طور پر مجھے مل جائیں گی۔چونکہ طالب علم کی نظر اس کے واہمہ کے ماتحت ہوتی ہے اور وہ جس قدر علم حاصل کرتا ہے اپنے دماغ میں سے ہی کرتا ہے، اس نے دنیا کا مطالعہ نہیں کیا ہوتا اس لئے وہ قانونِ قدرت کے گھبرا دینے والے ست رویہ سے آگاہ نہیں ہوتا۔وہ قوت واہمہ کا غلام ہوتا ہے۔قوت واہمہ اس کے سامنے ایک چیز پیش کرتی ہے اور وہ اس پر ایسا ایمان لے آتا ہے جیسے ایک مومن کلام الہی پر یا ایک سائنٹسٹ نیچر پر۔وہ ایک منٹ کے لئے بھی گمان نہیں کر سکتا کہ یہ محض ایک سبز باغ قوت واہمہ نے مجھے دکھایا ہے۔غرض ایک طرف تو وہ ایسے ایسے خواب دیکھتا ہے اور اتنی بڑی چیز اپنے سامنے رکھتا ہے جو اگر چہ دنیا میں موجود نہیں لیکن اس کے نزدیک ایک سچائی ہوتی ہے۔لیکن دوسری طرف اگر وہ مسلمان کے گھر پیدا ہوا اور اس نے دینیات سے کچھ آگاہی حاصل کی ہے تو ایک اور تعلیم اس کے سامنے آتی ہے۔اور وہ یہ کہ انکسار سے کام لینا چاہئے۔طول اہل میں نہیں پڑنا چاہئے۔لمبی امیدیں نہیں کرنی چاہئیں۔حرص و آز 1 میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے۔لالچ ترک کر دینا چاہئے۔پہلے پہل طالب علم کی نظر ان دونوں پہلوؤں پر پڑ کر نا دانستہ یا دانستہ چندھیا جاتی ہے۔کبھی تو وہ جانتا ہوتا ہے کہ اس کے اندر جذبات کی ایک جنگ جاری ہے اور کبھی وہ اسے مطلقا محسوس نہیں کرتا۔صرف ایک افسردگی اس کے قلب پر طاری ہوتی ہے اور وہ اس کا سبب نہیں سمجھ سکتا۔اگر آپ لوگوں میں سے ہر ایک اپنے گزشتہ ایام پر نظر ڈالے تو اسے معلوم ہوگا کہ بعض اوقات اُس پر ایسے آئے ہیں کہ بلا سبب طبیعت میں افسردگی پیدا ہو جاتی ہے۔اور بسا اوقات اس پر ایسی ساعتیں گزری ہیں جب تعلیمی شوق کے باوجود اُسے کالج کی تعلیم میں کوئی لذت محسوس نہیں ہوتی۔یا جب کھانا اس کے حسب منشا ہونے کے باوجود اسے مزہ نہیں دیتا۔یا جب وہ دوستوں کی مجالس میں ان کی محبت کے اشتیاق کے با وجود خوشی محسوس نہیں کرتا۔بلکہ علیحدگی میں بھی جہاں اس کی اپنی بادشاہت ہوتی ہے وہ جو چاہے بناتا اور جو چاہے گراتا ہے ایسی خود مختار حکومت میں بھی وہ خوش نہیں ہوتا۔اس پر ایک افسردگی چھائی ہوتی ہے جس کا سبب اُسے معلوم نہیں ہوتا۔یہ حالت بچوں پر بھی آتی ہے اور بڑوں پر بھی۔اور جو لوگ حقائق سے واقف ہیں وہ اس کا