زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 278
زریں ہدایات (برائے طلباء) 278 جلد سوم اگر معمار پہلی اینٹ ٹیڑھی رکھے تو ثریا تک دیوار ٹیڑھی ہی رہے گی۔جتنی اونچی دیوار کرتے جائیں اتنی ہی زیادہ ٹیڑھی ہوگی۔گو کالج میں داخل ہونے والے طالب علم ہیں اور نظام کے لحاظ سے ان کی ہستی ما تحت ہستی ہے لیکن نتائج کے لحاظ سے اس جامعہ کی کامیابی یا ناکامی میں ان کا بہت بڑا دخل ہے۔یہ تو ہم یقین رکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے سلسلہ کے کام ترقی کرتے جائیں گے مگر ان طلباء کا ان میں بہت بڑا دخل ہو گا۔اس لئے انہیں چاہئے کہ اپنے جوش ، اپنے اعمال اور اپنی قربانیوں سے ایسی بنیاد رکھیں کہ آئندہ جو عمارت تعمیر ہو اس کی دیوار میں سیدھی ہوں، ان میں کبھی نہ ہو۔ان کے سامنے ایک ہی مقصد اور ایک ہی غایت ہو اور وہ یہ کہ اسلام کا اعلاء ہو۔اس جامعہ سے پڑھ کر نکلنے والے سارے کے سارے دین کی خدمت میں نہیں لگائے جاسکیں گئے ان میں سے بعض ہی لگ سکیں گے۔لیکن ان میں سے ہر ایک اپنا یہ مقصد اور غایت قرار دے سکتا ہے کہ وہ جامعہ سے فارغ ہونے کے بعد اسلام کی اشاعت کے لئے کام کرے گا۔اس کے لئے ضروری نہیں کہ انسان مبلغ ہی ہو پہلے بھی اسلام اسی طرح پھیلا تھا۔حضرت ابو بکر حضرت عمر نے اپنا کاروبار نہ چھوڑ دیا تھا۔وہ اپنے کام بھی کرتے اور ساتھ ہی اشاعت اسلام صلى الله میں رسول کریم ﷺ کی مدد بھی کرتے تھے۔تو ہو سکتا ہے کہ جامعہ کے بعض طلباء کو تبلیغ کے کام پر نہ لگایا جا سکے۔ان میں بطور مبلغ تبلیغ کرنے کی قابلیت نہ ہو یا کوئی اور مجبوریاں ہوں۔ان تمام صورتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے جامعہ کے طلباء کو ایک ہی مقصد اپنی زندگی کا قرار دینا چاہئے اور وہ تبلیغ اسلام ہے۔خواہ عمل کے کسی میدان میں جائیں، کوئی کام کریں اپنے حلقہ میں تبلیغ اسلام کو نہ بھولیں۔ہوسکتا ہے کہ اس طرح کام کرنے والوں میں سے کئی تبلیغ کے لئے زندگی وقف کرنے والوں میں سے بعض سے زیادہ عمدہ طور پر تبلیغ کا کام کریں۔پس ان کو ایک ہی مقصد اپنے سامنے رکھنا چاہئے اور وہ تبلیغ اسلام ہے۔اور ان کا یہی موٹو (Motto) ہونا چاہئے کہ وَلْتَكُن مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَبِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ اور وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنْفِرُوا كَافَة فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنذِرُوا