زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 277 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 277

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 277 جلد سوم کسی کو خیال نہ تھا کہ اتنی جلدی بننا شروع ہو جائے گی۔زیادہ سے زیادہ یہ خیال تھا کہ چھ سات سال تک بن سکے گی مگر خدا تعالیٰ نے آنا فانا اس کے بننے کے سامان کر دیئے۔پس یہ خوا میں ہیں جو ہم نے پوری ہوتی دیکھیں اور بعض ایسی خواہیں ہیں جو ابھی پوری نہیں ہوئیں اور بعض ایسی ہیں جو مستقبل بعید سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کے پورا ہونے کے متعلق اندازہ لگانے سے ہم قاصر ہیں۔مگر خدا تعالیٰ نے ہمیں اس قدر خوا ہیں پوری کر کے دکھا دی ہیں کہ ہم پورے وثوق اور یقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ جو بھی پوری نہیں ہوئیں وہ بھی ضرور پوری ہوں گی۔گو اس وقت اس بات کو بھی خواب و خیال ہی سمجھا جائے کہ اس کالج میں ہر زبان کے پروفیسر مقرر ہوں جو مختلف ممالک کی زبانیں سکھائیں۔اس سے ہماری غرض یہ ہے کہ ہر ملک کے لئے مبلغ نکلیں۔لیکن یہ ایک دن میں ہو جانے والی بات نہیں ہے۔ابھی آج تو ہم اس کی بنیادرکھ رہے ہیں۔مدرسہ احمدیہ کے ساتھ بھی مبلغین کی کلاس تھی مگر اس میں شبہ نہیں کہ ہر چیز اپنی زمین میں ہی ترقی کرتی ہے۔جس طرح بڑے درخت کے نیچے چھوٹے پودے ترقی نہیں کرتے اسی طرح کوئی نئی تجویز دیرینہ انتظام کے ساتھ ترقی نہیں کر سکتی۔اس وجہ سے جامعہ کے لئے ضروری تھا کہ اسے علیحدہ کیا جائے۔اس کے متعلق میں نے 1924ء میں صدر انجمن احمدیہ کولکھا تھا کہ کالج کی کلاسوں کو علیحدہ کیا جائے اور اسے موقع دیا جائے کہ اپنے ماحول کے مطابق ترقی کرے۔آج وہ خیال پورا ہورہا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے امید ہے کہ یہی چھوٹی سی بنیا د ترقی کر کے دنیا کے سب سے بڑے کالجوں میں شمار ہوگی۔اس موقع پر میں ان طلباء کو بھی توجہ دلاتا ہوں جو اس میں داخل ہوئے ہیں کہ وہ اپنی ذمہ داری کو محسوس کریں۔ان کے سامنے عظیم الشان کام اور بہت بڑا مستقبل ہے۔وہ عظیم الشان عمارت کی پہلی اینٹیں ہیں اور پہلی اینٹوں پر ہی بہت کچھ انحصار ہوتا ہے۔ایک شاعر نے کہا تھا خشت اول چوں نہد معمار کج تا ثریا می رود دیوار سج