زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 276
زریں ہدایات (برائے طلباء) 276 جلد سوم متعلق خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دکھایا کہ یہاں شہر بس رہا ہے۔یہ اُس وقت کی بات ہے جب قادیان کی دیواروں کے ساتھ پانی کی لہریں ٹکراتی تھیں۔جب قادیان کی زندگی احمدیوں کے لئے اس قدر تکلیف دہ تھی کہ مسجد میں خدا تعالیٰ کی عبادت کے لئے آنے سے روکا جاتا۔راستہ میں کیلے گاڑ دیئے جاتے تاکہ گزرنے والے گریں۔اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بتایا مجھے دکھایا گیا ہے یہ علاقہ اس قدر آباد ہو گا کہ دریائے بیاس تک آبادی پہنچ جائے گی۔اُس وقت کس کے ذہن میں یہ بات آسکتی تھی کہ قادیان کی بستی ترقی کر سکے گی۔یہ ویران جنگل جہاں جنات پھرتے تھے، جن یہی تھے کہ چور چکار لوگوں کو لوٹتے مارتے تھے اور لوگوں نے سمجھ لیا تھا یہاں جنات رہتے ہیں۔تو جہاں جنات پھرتے تھے کس کو توقع ہوسکتی تھی کہ یہاں فرشتے پھرا کریں گے۔لوگوں میں مشہور ہے کہ ابلیس فرشتہ تھا جو بگڑ کر ابلیس بن گیا۔یہ جھوٹ مشہور ہے مگر ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے ذریعہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ وہ جو ابلیس تھے ، فرشتے بن گئے۔فرشتے کا ابلیس بننا جھوٹی کہانی ہے۔مگر اس میں شک نہیں کہ ہم نے جنوں کو حضرت مسیح موعو علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ ملائکہ بنتے اور ابلیس کو فرشتہ بنتے دیکھا ہے۔ہم نے ان ویرانوں کو آباد ہوتے دیکھا ہے جن کی طرف آنے کا کوئی رخ بھی نہ کرتا تھا۔غرض ہم نے ایک ایک بات جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے فرمائی اپنی آنکھوں سے پوری ہوتی دیکھی۔اور اس وقت کے لحاظ سے نہ کہ آئندہ کے لحاظ سے ترقی کی آخری کڑی جو ریل ہے وہ بھی عنقریب آنے والی ہے۔اس کے آنے میں سب سے بڑا حصہ قادیان کا ہے۔رپورٹ جو گورنمنٹ میں پیش کی گئی اس میں یہی لکھا تھا کہ قادیان میں کثرت سے لوگ آتے ہیں اس لئے اس ریلوے لائن کا بننا مفید ہوگا۔پس یہ ریل قادیان کے سبب اور قادیان کی وجہ سے بن رہی ہے۔جس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قادیان کی ترقی کا اعلان کیا اُس وقت ان چیزوں کا خیال کس کو ہو سکتا تھا۔اور ریل کا خیال تو ایسا ہے کہ پچھلے سال تک بھی