زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 270 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 270

زریں ہدایات (برائے طلباء) 270 جلد سوم جامعہ احمدیہ قادیان کے افتتاح کے موقع پر خطاب 20 مئی 1928ء کو حضرت خلیفہ لمسیح الثانی نے جامعہ احمدیہ قادیان کا افتتاح فرمایا۔اس موقع پر تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد آپ نے فرمایا:۔" آج کا دن شاید ہمارے لئے کوئی خصوصیت رکھتا ہے کہ اس دن بہت سی دعوتیں جمع ہو گئی ہیں۔میرا خیال تھا ہم اس جگہ اس لئے آرہے ہیں کہ دعا کر کے جامعہ احمدیہ کا افتتاح کریں۔لیکن سامنے کے موڈ سے مڑتے ہی معلوم ہو گیا کہ یہاں بھی نفسانی مجاہدہ ہمارا انتظار کر رہا ہے۔اور ابھی یہ سلسلہ یہیں ختم نہیں ہو جا تا شام کو پھر ایک دعوت میں مدعو ہیں۔اور ممکن ہے شام سے پہلے پہلے کوئی اور دعوت بھی انتظار کر رہی ہو۔اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ دن ہمارے لئے اکل و شرب کا دن بن گیا ہے۔اور رسول کریم صلى الله نے عید کے دن کی یہی تعریف فرمائی ہے۔سو جس طرح خدا تعالیٰ نے اس دن میں بغیر اس کے کہ ہم ارادہ اور نیت کر کے پہلے سے انتظام کرتے خود اپنی طرف سے ہی ایسے سامان کر دیتے ہیں کہ اس دن کو ہمارے لئے عید کی طرح بنا دیا ہے۔اسی طرح ہم اللہ تعالیٰ سے التجا کرتے ہیں کہ واقعہ میں ہمارے لئے اسے عید بنا دے۔جب خدا تعالیٰ نے اس دن میں عید سے ظاہری مشابہت پیدا کر دی ہے اور بغیر کسی انسانی ارادہ کے دخل کے ایسے سامان پیدا کر دیئے ہیں تو یہ اس کی شان کے خلاف ہے کہ کوئی ایسی چیز دے جو کام کی نہ ہو۔ہم اس کی شان کو مد نظر رکھ کر یہی امید رکھتے اور اس سے یہی التجا کرتے ہیں کہ اس ظاہری عید کو حقیقی عید بنا دے۔اس مُردہ میں روح پھونک دئے اس جسم میں سانس ڈال دئے اس بے بس مجسمہ کو چلتی پھرتی