زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 268 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 268

زریں ہدایات (برائے طلباء) 268 جلد سوم اور کسی کے قلب میں نہیں۔پس ہمارے دلوں میں اور صرف ہمارے دلوں میں وہ سوز ہے جس سے دوسروں کے دلوں میں سوز پیدا کیا جاسکتا ہے۔ہمارے ہی دلوں میں درد ہے جس سے دوسروں کے دلوں میں درد پیدا کیا جاسکتا ہے۔اسی طرح ایک چراغ سے دوسرے چراغ جلائے جاسکتے ہیں۔اور وہ چراغ ہمارے دلوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جلایا ہے۔پس وہ چراغ ہم ہی ہیں جو مسلمانوں کے گھروں میں چراغ روشن کر سکتے ہیں۔جس سے انہیں اندھیری رات میں روشنی حاصل ہو سکتی ہے۔اور وہ آگ ہم ہی ہیں جس سے وہ دن کو کام چلا سکتے ہیں۔پس ہمارے ہی ہاتھوں میں ترقی اور کامیابی ہے۔کیونکہ اسلام کو غالب کرنے کا درد، اسلام کو فتح مند کرنے کی سوزش ہمارے ہی دلوں میں ہے۔پس تم اس آگ کے ذریعہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے ہمارے دلوں میں جلائی ہے سارے ملک میں لگا دو اور اس طرح لگا دو کہ پھر وہ نہ بجھے۔اور اسے بھڑ کا ؤ یہاں تک کہ ہر ایک دیوانہ وار اٹھ کھڑا ہو۔اور اسی طرح دیوانہ وار پکار اٹھے جس طرح منصور نے کہا تھا آنَا الْحَقُّ “ میں حق ہوں۔اس سے اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ میں خدا ہوں بلکہ یہ تھا کہ میرے اندر خدا بول رہا ہے۔پس تم ایسی آگ لگاؤ کہ انسانوں کے جسم کے ہر سوراخ سے بلکہ بال بال اور رواں رواں سے اس کے شعلے نکل رہے ہوں تا کہ اس سے وہ خس و خاشاک جل کر راکھ ہو جائے جو اسلام کی گاڑی کے آگے آکر اس کی رکاوٹ کا باعث بن رہی ہے اور اسلام کی گاڑی اُسی سرعت اور تیزی سے چلنے لگ جائے جس طرح پہلے چلتی رہی ہے۔میں نے پہلے بھی نصیحت کی ہے اور اب بھی کرتا ہوں کہ اپنے اندر ایسی آگ پیدا کرو جس کی چنگاریاں چاروں طرف پھیل جائیں اور جس کے شعلے ہرطرف بلند ہو جائیں تاکہ مسلمان بیدار ہوں، غفلت کو چھوڑ دیں اور دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے لئے لاکھوں نہیں کروڑوں اٹھ کھڑے ہوں۔میں اس تقریر کو اس دعا پر ختم کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اس سوزش اور آگ کو جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیدا کی ہے ہر فرد کو بھڑکانے کی توفیق دے۔اور اسے لے کر اس طرح کھڑے ہو جائیں کہ ہر فرد کے دل میں وہ سوز اور درد پیدا کر دیں جس سے اسلام دنیا میں