زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 267
زریں ہدایات (برائے طلباء) 267 جلد سوم کام کرنے کا خاص موقع ہے۔ان کا فرض ہے اس وقت ایسا تو شہ و زاد راہ لے لیں جو اس | جہان میں بھی کام آئے اور اگلے جہان میں بھی ان کے لئے سرخروئی کا باعث ہو۔اس وقت جو بھی فراغت انہیں میسر آئے اس سے ایسے رنگ میں کام لیں کہ دینِ اسلام کی اشاعت ہو اور مسلمان دشمنوں کے حملوں سے بچ جائیں۔یہ مت سمجھو کہ ہم طالب علم ہیں ہم کیا کر سکتے ہیں۔طالب علموں کے لئے بھی چھٹیاں آتی ہیں۔اگر ان سے کام لو تو بہت کچھ کام کر سکتے ہو۔اگر خدا تعالیٰ نے ہمیں آگ بجھانے کے سامان دیئے ہیں تو آگ کو بھڑ کا نا بھی ہمارا کام ہے۔مگر یاد رکھو جب میں کہتا ہوں آگ بھڑ کانے کا سامان بھی ہمارے پاس ہے اور ہمیں آگ بھڑ کانی چاہئے تو اس کے یہ معنی نہیں کہ جنگ اور فساد کیا جائے گا۔ہمارا سلسلہ تو دنیا میں امن قائم کرنے کے لئے آیا ہے۔پس جب میں یہ کہتا ہوں کہ آگ بھڑ کا نا بھی تمہارا فرض ہے اور اس کا سامان بھی تمہارے پاس موجود ہے جس سے تمہیں کام لینا چاہئے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ مسلمانوں کے دلوں میں ایسا درد اور ایسا احساس پیدا کر دو کہ اس وقت اگر انہوں نے اسلام کی حفاظت کا خیال نہ کیا تو اسلام مٹ جائے گا۔اس کے لئے ایسی جلن، ایسا سوز ، ایسا درد پیدا کرنا کہ مسلمانوں کو اُس وقت تک چین نہ آئے جب تک اسلام کو اچھی طرح قائم ہوا ہوا نہ دیکھ لیں، یہ ہمارا کام ہے۔ہماری غرض ساری دنیا میں اسلام قائم کرتا ہے۔مگر خدا تعالیٰ نے اس وقت ایسے سامان مہیا کر دیئے ہیں کہ ساری دنیا میں اسلام پھیلانے کا مرکز ہندوستان مضبوط ہو جائے۔اس لئے ہمیں اس ملک میں خاص طور پر کام کرنے اور دوسروں کو اسلام کی حفاظت اور اشاعت کے لئے تیار کرنے کی ضرورت ہے اور یہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ آگ لگا دی جائے۔اس آگ سے مراد جنگ کرنا یا فساد کرنا یا فتنہ پیدا کرنا نہیں بلکہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں اس بات کے لئے سوز اور گداز پیدا کر دیں کہ اسلام کو غالب کرنا ہے۔اس آگ کا سامان ہمارے پاس ہے۔کیونکہ آگ بغیر آگ کے نہیں لگتی۔کسی چیز کو آگ اُس پر مٹی ڈال دینے سے یا اس پر لکڑیوں کا ڈھیر لگا دینے سے یا لوہے کا طومار لگا دینے سے نہیں لگا کرتی۔آگ آگ سے ہی لگتی ہے۔اور وہ آگ ہمارے قلوب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جلائی ہے۔