زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 266
زریں ہدایات (برائے طلباء) 266 جلد سوم کیوں محروم رہتے ہیں؟ اس لئے کہ وہ غفلت میں پڑے رہتے ہیں۔قرآن بار بار منکروں کے متعلق کیوں کہتا ہے کہ وہ غافل ہیں۔اسی وجہ سے کہ اگر وہ غفلت میں نہ پڑے ہوتے تو قرآن کو مان لیتے۔پس اس وقت اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم اس ملک میں آگ لگادیں اور ایسی آگ لگا دیں کہ کوئی سونے نہ پائے اور کوئی غافل نہ رہے۔اس کے لئے خدا تعالیٰ نے آپ سامان پیدا کر دیئے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وقت جب کوئی شکایت کرتا کہ ہمارے علاقہ میں احمدیت نہیں پھیلتی تو آپ فرماتے آگ لگا دولوگ خود بخود احمدیت کی طرف توجہ کریں گے۔اور جب کوئی کہتا ہمارے گاؤں یا علاقہ میں احمدیت کے خلاف بڑا فساد پھیلا ہوا ہے تو فرماتے یہ خدا نے آگ لگائی ہے اس سے فائدہ اٹھاؤ۔ہماری ستی اور کمزوری تھی کہ اس وقت تک ہم ملک میں آگ نہ لگا سکے۔اب خود اسلام کے دشمنوں نے آگ لگائی ہے اور اب وہ وقت اور وہ گھڑی آگئی ہے جس کی ساری عمر میں تلاش رہتی ہے۔مشہور ہے ہر انسان کو ساری عمر میں ایک دفعہ خواجہ خضر ملتے ہیں۔اُس وقت انسان جو چاہے ان سے لے سکتا ہے۔ہماری عمر میں وہ گھڑی آگئی ہے جب خواجہ خضر ہمیں مل گئے ہیں۔اس وقت ہم ذرا بھی توجہ اور کوشش کریں تو جو چاہیں حاصل کر سکتے ہیں۔اس وقت سارا ملک ہمارا ہو سکتا ہے۔تمام ترقیات خدا تعالیٰ نے لا کر ہمارے سامنے ڈال دی ہیں۔اس وقت جو آگ ملک میں لگائی گئی ہے اس کے بھڑ کانے کے سامان ہمارے پاس ہیں اور پھر اس آگ کو بجھانے کا مصالحہ بھی ہمارے ہی پاس ہے۔جب تک ایک ایک انسان محفوظ نہ ہو جائے اُس وقت تک اس آگ کو بھڑ کائے رکھنا ہمارا فرض ہے تاکہ کوئی سونے نہ پائے اور کوئی غفلت کا شکار نہ ہو جائے۔اور جب سب لوگ جاگ اٹھیں اور غفلت کو ترک کر دیں تو پھر اس لئے کہ کوئی اس آگ کی زد میں نہ آجائے اس کا بجھانا ہمارا کام ہوگا۔پس ہمارا فرض ہے کہ ان سامانوں کو ایسے رنگ میں استعمال کریں کہ ہمارا ملک آگ سے بچ کر ہدایت حاصل کرلے جو نہ صرف اس دنیا میں ہر انسان کے کام آئے بلکہ دوسری دنیا کے لئے بھی اسے راحت اور آرام پہنچا سکے۔جو طلباء امتحان کے لئے جارہے ہیں یا جو ابھی پڑھ رہے ہیں میں ان سے کہتا ہوں آج