زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 257 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 257

زریں ہدایات (برائے طلباء) 257 جلد سوم دشمن بنا کر ہمیں کیا ملا۔خدا تعالیٰ کی رضا ہی ہے جس کے لئے ساری دنیا کی ہم نے کوئی پرواہ نہیں کی۔لیکن اگر وہ بھی حاصل نہ ہوئی تو ہم جیسا بد قسمت کون ہو سکتا ہے۔پس دونوں سکولوں کے اساتذہ کو اور دوسرے لوگوں کو بھی جو ٹورنامنٹ میں حصہ لیتے ہیں اور لڑکوں کے والدین کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ بچوں میں تعاون، محبت اور ایثار کے جذبات پیدا کرنے کی کوشش کریں۔میرے نزدیک اس قسم کا قانون پاس کر دینا چاہئے کہ جب کوئی پارٹی کسی مقابلہ میں جیتے تو ایک دومنٹ تک خوشی کا نعرہ لگا سکتی ہے لیکن جس کو جیتے اس کے لئے بھی نعرہ لگائے کیونکہ اس نے بھی کام کیا ہے۔اور پھر آپس میں اس طرح ملیں کہ محبت والفت کا نظارہ نظر آئے۔اس موقع پر میں ایک اور بات بھی کہنا چاہتا ہوں کہ آداب ایسی چیز ہیں کہ کوئی قوم جو یہ نہیں سیکھتی ترقی نہیں کر سکتی۔مگر ہمارے سکولوں میں اس کی بہت کم پر واہ کی جاتی ہے۔یہاں ہی ہمارے اپنے گھر کے لڑکے جو مدرسہ احمدیہ میں پڑھتے ہیں اور وں سے تو الگ رہا مجھ سے مصافحہ کرتے وقت بھی دونوں ہاتھ نہیں ملاتے۔اس قسم کے آداب سکھانا استادوں کا کام ہے۔پھر میں نے دیکھا ہے یہاں لڑکے بیٹھے رہتے ہیں۔اگر کوئی بڑی عمر کا آدمی آجائے تو اٹھ کھڑے نہیں ہوتے اور اپنی جگہ ان کو بیٹھنے کے لئے پیش نہیں کر دیتے۔کوئی تیسرا آدمی ان کو کھڑا کر دے تو کھڑے ہو جاتے ہیں مگر خود ان میں یہ احساس نہیں ہے۔حالانکہ ہمارے بچوں کے لئے یہ چاہئے کہ ایک آدمی آئے تو اسے جگہ دینے کے لئے دس اٹھ کھڑے ہوں۔اس قسم کے اخلاق کی روزانہ مشق کرانے کی ضرورت ہے۔ابھی جب ہم لاہور گئے تو میاں شریف احمد صاحب جو ناظر تعلیم و تربیت ہیں وہ بھی ساتھ تھے۔انہوں نے لاہور کے ایک مدرسہ کو دیکھا جس کا انتظام نہایت اعلی درجہ کا پایا مگر میں نے یہاں دیکھا ہے بڑے آدمیوں کے آنے پرلڑ کے بیٹھے رہے۔پھر کسی دوسرے نے کھڑا کیا تو کھڑے ہوئے۔اس قسم کی باتیں بچوں کو کھانی ضروری ہیں۔ان نصائح کے بعد میں دعا پر اس جلسہ کو ختم کرتا ہوں۔خدا کرے کہ یہ مفید ہوں اور ان (الفضل 11 جون 1926ء) سے فائدہ اٹھایا جائے۔"