زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 246 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 246

زریں ہدایات (برائے طلباء) 246 جلد سوم یا کوئی اور شے انسان بغیر زبان کے اس کے متعلق کچھ بھی بیان نہیں کر سکتا۔زبان خیالات کے اظہار کا ایک ذریعہ ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اگر کسی شے کے متعلق کسی زبان میں اظہار خیالات کرنا ہو تو جب تک اس زبان کے بولنے میں کافی مہارت نہ ہو ا ظہار خیالات نہیں کیا جاسکتا۔اور چونکہ مجھے انگریزی زبان بولنے کی مہارت نہیں اس لئے میرے لئے کسی حد تک مشکل ہے کہ میں اس میں روانی کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کروں لیکن باوجود ان مشکلات کے میں چند باتیں کہنی چاہتا ہوں۔ایسوسی ایشن کے سیکرٹری نے جو کارگزاری کی رپورٹ بیان کی ہے اور اپنے کام کرنے کے ڈھنگ کو بھی واضح کیا ہے وہ میں نے سنا ہے اور میں ان کے اس بیان سے پہلے بھی کسی قدران حالات سے آگاہ تھا لیکن میں اس وقت ان پر کوئی ریمارکس نہیں کرنا چاہتا بلکہ اس کی بجائے میں چند نصیحتیں کرنی چاہتا ہوں جن کو اگر مد نظر رکھا جائے گا تو عام حالات کے ماتحت وہ ان کے لئے مفید پڑیں گی۔پس میں پہلی نصیحت یہ کرتا ہوں کہ سب سے پہلے تم اپنے خیالات کو صاف اور پاکیزہ بناؤ۔کیونکہ تبلیغ کے لئے یہ از بس ضروری ہے کہ پہلے اپنے خیالات کی نفاست پیدا کی جائے تا کہ یہ نفاست دوسروں کے قلوب پر بھی تاثیر کرنے والی ہو۔کیونکہ اس رنگ میں تبلیغ کا جلد اثر ہوتا ہے۔لیکن اگر خیالات کو صاف نہ کیا جائے اور ان میں پاکیزگی پیدا نہ کی جائے تو پھر خواہ کتنا ہی عمدہ کام کیوں نہ کیا جائے کوئی اثر پیدا نہیں ہوتا۔اس بات کو یادرکھنا چاہئے کہ خیالات میں بغیر اس قسم کی پاکیزگی پیدا کئے کے تم ہر گز صادق آدمی نہیں کہلا سکتے۔کیونکہ صادق وہی ہوتا ہے جس کا قول اور فعل اپنے اندر یکسانیت اور موافقت رکھتا ہو۔لیکن جب قول تمہارا یہ ہو کہ خیالات کو صاف کرو اور فعل تمہارا یہ ہو کہ اپنے خیالات صاف نہ ہوں تو پھر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ تم صادق آدمی ہو۔بنا بریں میں نصیحت کرتا ہوں کہ تم اپنے خیالات کو صاف اور پاکیزہ بناؤ۔اور اس کے ساتھ ہی میں یہ بھی کہتا ہوں کہ اپنے خیالات پر ضبط بھی رکھو۔تا ایسا نہ ہو کہ تمہاری باتیں کسی کے ابتلا کا باعث ہوں یا کسی کو ان سے ٹھوکر لگے۔پھر ایسا ہی اگر تم اپنے دلوں میں بعض بری باتوں کا