زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 224 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 224

زریں ہدایات (برائے طلباء) 224 جلد سوم ہوں اس اصلاح کے نتیجہ میں ہائی سکول کو جو دقتیں اب پیش آتی ہیں وہ نہ آئیں گی۔مگر باوجود اس کے میں کہتا ہوں ہائی سکول کی ٹیم کے لئے ترقی کی ابھی بڑی گنجائش ہے۔میرے نزدیک لڑکوں کے کھیلنے کے متعلق یہ احتیاط نہیں مد نظر رکھی جاتی کہ ہر حصہ کی مشق نہیں کرائی جاتی۔ہر چیز عمدہ اُسی وقت ہو سکتی ہے جب کہ ہر حصہ کی مشق ہو۔مثلاً یہ کہ مختلف اینگل (Angle) سے کس طرح تک (Kick) مارنی چاہئے۔سر سے کس طرح ، الٹے پاؤں سے کس طرح۔غرض ہر لڑکے کو ہر طرح کی مشق ہونی چاہئے۔میرے نزدیک کھیلوں میں ترقی کا ایک ذریعہ یہ بھی ہے کہ ہائی سکول کو مدرسہ احمدیہ کے ساتھ کھیلنے کا زیادہ موقع دیا جائے۔جوٹیم کمزور ہو وہ بار بار مقابلہ کرنے سے طاقت ور ہو جاتی ہے۔اس کے بعد میں انعام لینے والے بچوں کے لئے یہ تجویز کرتا ہوں کہ جو انعام لینے آئے وہ پاس آکر السَّلَامُ عَلَيْكُمْ کہے اور مصافحہ کرے۔اس کے بعد انعام دیا جائے گا۔ہمارا ہر طریق اسلامی رنگ اور اسلامی شان کا ہونا چاہئے۔مصافحہ کرنے پر جتنا زور اسلام نے دیا ہے اتنا کسی صل الله اور مذہب نے نہیں دیا۔رسول کریم ﷺ کے اعمال اور طریق ہمارے لئے سنت ہے۔صحابہ میں دستور تھا کہ خوشی کے موقع پر رسول کریم ﷺ سے مصافحہ کرتے اور آپس میں ایک دوسرے سے بھی ایسے موقعوں پر مصافحہ کرتے۔انعام لینے کا موقع بھی چونکہ خوشی کا موقع ہے اس لئے جس کے ہاتھ سے انعام لیا جائے اس سے مصافحہ کرنا چاہئے۔دوسری قوموں میں بھی یہ دستور ہے کہ جب انعام یا ڈگریاں یا خطاب یا تمنے دیئے جاتے ہیں تو ساتھ مصافحہ بھی کرتے ہیں۔پس جولڑ کا انعام لینے کے لئے آئے السَّلَامُ عَلَيْكُمْ کہے اور مصافحہ کرے۔پھر انعام لینے کے بعد جراكُمُ الله کہنا چاہئے۔یعنی انعام دینے والوں کے لئے دعا کرنی چاہئے۔اور انعام دینے والے کو بارک اللہ کہنا چاہئے۔میں یہ کہوں گا حاضرین بھی یہی کہیں۔“ اس موقع پر حضور نے جب ایک لڑکے کو انعام دیا اور وہ ہاتھ پیچھے کھینچتے ہوئے گلدستہ کو بھی جو میز پر رکھا تھا اپنی طرف کھینچ لے گیا تو حضور نے فرمایا:۔یہ تو ہم نے نہیں دیا یہ ہمارا ہے۔“