زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 208 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 208

زریں ہدایات (برائے طلباء) 208 جلد سوم خیال نہ کیا کہ میں کچھ کر نہیں سکتا اور کبھی اپنے عزم اور کام کرنے کے احساس کو ضائع نہ ہونے دیا۔سب سے پہلے تو انہوں نے یہ کیا کہ بھائی جب مارنے لگے تو ان کو رام کر لیا۔اور وہ جو قتل کرنے پر تلے ہوئے تھے زندہ کنویں میں ڈال کر چلے گئے۔اور پھر ایک قافلہ والوں نے جب انہیں کنویں سے نکالا تو انہیں ایسا گرویدہ بنالیا کہ انہوں نے سمجھا کہ یہ بہت قیمتی چیز ہے اسے ضائع نہیں کرنا چاہئے۔”ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات“ انہوں نے سمجھ لیا اس سے ہمیں بہت فائدہ حاصل ہوگا اور وہ ان کی بے حد قدر کرنے لگ گئے۔پھر دیکھو ! مصر میں جا کے اس شخص کو رام کر لیا جس کے ہاتھ ہے۔وہ ان پر ایسا لٹو ہوا کہ اس نے آپ کو اپنا بیٹا بنالیا۔پھر قید خانہ میں جا کر قیدیوں کو رام کر لیا۔قیدی چونکہ عموماً مجرم ہوتے ہیں اس لئے قید خانہ میں خواہ کوئی کتنا ہی شریف اور معزز کیوں نہ جائے وہ اسے بھی مجرم ہی سمجھتے ہیں لیکن حضرت یوسف علیہ السلام کے معاملے میں قیدی ایسا نہیں کرتے۔ان سے عزت کے ساتھ پیش آتے اور ان کا ادب کرتے اور ان سے اپنی خوابوں کی تعبیریں پوچھتے ہیں۔پھر جب قید خانہ سے نکل کر بادشاہ کے سامنے آئے تو اسے بھی رام کر لیتے ہیں۔اس سے اپنی ہی بات منواتے ہیں۔چنانچہ قید سے نکل کر گل خزانوں کی چابیاں لے لیں۔پھر کامل اختیار مانگتے ہیں وہ بھی مل جاتے ہیں۔غرض جس صحبت میں گئے اپنا اثر ڈالتے رہے۔اور یہ جو کچھ بھی انہوں نے کیا چھوٹی عمر میں ہی کیا۔جسے ہمارے بچے یہ کہ کر رائیگاں گنوادیتے ہیں کہ ہم ابھی بچہ ہیں۔ایسا ہی حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی مثال ہے۔انہوں نے بھی بچپن میں بڑے بڑے کام کئے۔ایک موقع پر رسول کریم ﷺ نے جب اپنے رشتہ داروں کو جمع کر کے کہا کہ کوئی ہے جو میری مدد کرے۔تو حضرت علیؓ جن کی اُس وقت گیارہ سال کی عمر تھی بچپن کا عالم تھا مگر فوراً بول اٹھے میں مدد کروں گا 1 اگر اس وقت یہی سوال یہاں کیا جائے تو میں سمجھتا ہوں یہاں بھی تین تین چار چار سال کے بہت سے بچے کھڑے ہو جائیں گے جو یہ کہیں گے کہ ہم کریں گے۔لیکن حضرت علیؓ نے صرف کہہ ہی نہیں دیا تھا انہوں نے گیارہ سال کی عمر میں جو بات کہی وہ سوچ | سمجھ کر کہی اور ساری عمر اس پر عمل پیرار ہے۔ان کے سامنے لوگوں کی دشمنی بھی تھی اور مخالفوں کی