زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 207 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 207

زریں ہدایات (برائے طلباء) 207 جلد سوم ہوں اس کا ذکر نہیں۔لیکن وہ جو اپنے قصور اور غلطی سے یہ کہہ کر بری ہونا چاہتا ہے کہ میں ابھی بچہ ہوں وہ بڑا ہو کر بھی کوئی مفید کام نہیں کر سکتا۔ہمارے ملک میں یہ ایک بدعادت ہے کہ اگر کسی کا بچہ قصور کرے اور اس کی شکایت والدین سے کی جائے تو وہ یہ کہہ دیتے ہیں کہ ابھی اس کی عمر ہی کیا ہے، بچہ ہے، بڑا ہوگا تو آپ ہی ان باتوں کا اسے پتہ لگ جائے گا۔مگر اس کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ وہ بچہ بھی ایسے موقعوں پر کہنے لگ جاتا ہے میں تو ابھی بچہ ہوں جب بڑا ہوں گا تو ایسا نہیں کروں گا۔حالانکہ جب وہ شرارت کر سکتا ہے اور اس پر اپنے آپ کو بچہ کہہ کر پردہ ڈالنے کی کوشش کر سکتا ہے تو کیا وجہ ہے وہ نیک کام نہیں کر سکتا۔کر سکتا ہے۔مگر یہ بات اس کے دل میں نہیں ڈالی جاتی۔پس یہ ضروری ہے کہ بچوں میں اس بات کا احساس پیدا ہو کہ ہم سب کچھ کر سکتے ہیں۔جس وقت یہ احساس پیدا ہو جائے تو بچے چھوٹی عمر میں بھی بڑے بڑے کام کر سکتے ہیں کیونکہ کام کرنے کی اہلیت تو ان میں ہوتی ہے لیکن وہ اس خیال سے نکھے بنے رہتے ہیں کہ ہم ابھی بچے ہیں۔پس یہ غلط بات ہے کہ کوئی کچھ کام نہیں کر سکتا اور یہ کہ وہ ابھی بچہ ہے۔اگر وہ بد کام کر سکتا ہے تو نیک کام بھی کر سکتا ہے۔ہم یہ کیونکر مان لیں کہ خدا نے بدی کی طاقت تو اس میں رکھی ہے لیکن نیکی کی نہیں رکھی۔یہ تو وہ کر سکتا ہے کہ چوری کرے، بدی کرے ، گالی دے، کسی کو تھپڑ مارے، کسی کو تنگ کرے، کسی پر ظلم کرے، کسی کا ناحق نقصان کرے لیکن یہ نہیں کر سکتا کہ نماز پڑھے ، چوری نہ کرے، کسی کو نقصان نہ پہنچائے۔اگر بچے عیب اور بدیاں کر سکتے ہیں تو نیکیاں بھی کر سکتے ہیں۔پس میں اپنے بچوں کو پھر کہنا چاہتا ہوں کہ یہ مت سمجھو ہم کچھ کر نہیں سکتے۔بہت کام ہیں جو تم کر سکتے ہو لیکن کرنے کے لئے احساس اور عزم ہونا چاہئے۔تم یہ نہ سمجھو کہ تمہارے کرنے کے لئے کوئی کام نہیں۔تمہارے کرنے کے لئے تو بہت کام ہیں لیکن اس احساس کو پیدا کرو کہ تم نے کام کرنا ہے اور تم کام کر سکتے ہو۔پس اس بات کا خیال نہ کرو کہ تم بچے ہو اور تم کچھ کر نہیں سکتے۔دیکھو حضرت یوسف علیہ السلام بچپن کے وقت ہی گھر سے بے گھر ہوئے۔ملک سے بے ملک ہوئے لیکن ہر مقام پر اپنی عقل اور سمجھ سے کامیابی حاصل کرتے رہے۔انہوں نے کبھی بھی یہ