زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 206
زریں ہدایات (برائے طلباء) 206 جلد سوم انسان بڑا ہی ہو تو تبلیغ کرے بلکہ چھوٹی عمر میں بھی ایسی باتیں کر سکتا ہے جو مؤثر ہوں۔امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ اپنا ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں ان سے کسی نے پوچھا آپ پر بھی کسی کے وعظ کا اثر ہوا ہے؟ فرمایا اتنا نہیں جتنا کہ ایک آٹھ نو برس کے بچے کا ہوا ہے۔فرمانے لگے ایک دن بارش کے وقت میں گھر سے نکل کر بازار کو جارہا تھا۔بارش کے سبب کیچڑ ہو رہا تھا جس میں ایک بچہ دوڑ رہا تھا۔میں نے اسے کہا بچے ذرا سنبھل کر چلو گر نہ جانا۔اس نے جواب دیا امام صاحب! آپ سنبھل کر چلئے میں گر گیا تو میں ہی گروں گا آپ اگر گریں گے تو لاکھوں گریں گے۔امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس بچے کی بات کا مجھ پر بڑا اثر ہوا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس نے ماننا ہوتا ہے وہ یہ نہیں دیکھتا کہ کون مجھ سے کہہ رہا ہے بلکہ وہ یہ دیکھتا ہے کہ کیا بات کہہ رہا ہے۔اگر بات معقول ہو تو فورا مان لیتا ہے۔اب اسی واقعہ کی طرف دیکھو امام ابو حنیفہ نے تو اسے گرنے کا لفظ کہہ کر کیچڑ میں پھسلنے کی طرف اشارہ کیا لیکن اس نے گرنے کا لفظ بول کر عقائد اور مسائل میں غلطی کرنا مراد لیا۔اور یہ ایسا برجستہ جواب تھا کہ امام ابوحنیفہ جیسے شخص کے دل پر بھی اثر کر گیا۔آخر یہ لڑکا ہی تو تھا جس نے یہ کہا تھا۔پس تم اپنی عمر یا اپنے علم یا کسی اور وجہ سے حق بات کہنے سے مت جھجکو۔تم جس بات کو حق سمجھتے ہو وہ کہو۔جن لوگوں کے اندر سچائی کی تڑپ ہوگی اور صداقت کے ساتھ پیار ہو گا وہ ضرور قبول کر لیں گے۔ایسے اشخاص یہ دیکھتے ہیں کہ بات میں صدق اور راستی ہے یا نہیں۔اور یہی امران کے ماننے کا سبب بنتا ہے۔اگر بات میں راستی ہو اور کہنے والا صدق سے کہتا ہو تو ایسے لوگ ماننے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔پس تم میں سے کوئی یہ مت سمجھے میں کیا کر سکتا ہوں بلکہ ہر ایک کو یہ خیال ہونا چاہئے کہ میں بھی کام کر سکتا ہوں۔اور یادرکھو جب تک یہ احساس پیدا نہ ہوگا تم کچھ بھی نہ کر سکو گے۔حتی کہ اس عمر میں بھی کچھ نہ کر سکو گے جس عمر کے متعلق تم امید لگائے بیٹھے ہو کہ جب وہاں تک پہنچیں گے تو کریں گے۔میرا تجربہ ہے جو بچہ اس بات کو سمجھ کر کہتا ہے کہ وہ بچہ ہے وہ تمام عمر ہی بچہ رہتا ہے اور کچھ نہیں کر سکتا۔ایک تو وہ بچہ ہوتا ہے جو ماں باپ کا سکھایا ہوا کہتا ہے کہ میں ابھی چھوٹا