زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 205
زریں ہدایات (برائے طلباء) 205 جلد سوم ان کے وہ کام ہیں جو سکول سے ان رخصتوں میں گھر کرنے کے لئے ملے ہیں۔پھر اس کے سوا اور کام بھی ہیں جو مدرسہ کے وقت میں نہیں کر سکتے تھے لیکن رخصتوں میں ان کے لئے موقع ہوتا ہے۔ان کاموں میں سے ایک کام نہایت ہی اہم ہے وہ تبلیغ کا کام ہے۔تبلیغ کا کام تم سکول کے وقت میں نہیں کر سکتے تھے کیونکہ سکول میں اس کے لئے کوئی موقع نہیں تھا۔اور پھر سکول سے باہر بھی تم نہیں کر سکتے تھے کیونکہ تم احمدیوں میں رہتے تھے اور دن رات انہیں کے ساتھ تمہارا میل جول تھا۔ان میں تم تبلیغ نہیں کر سکتے تھے۔تمہارا تبلیغ کے لئے یہ چھٹی کا زمانہ تھا۔گویا ساڑھے دس ماہ تبلیغ کی طرف سے تمہیں چھٹی تھی۔لیکن اب تبلیغ کا کام ان چھٹیوں میں ہے۔پس میں اپنے بچوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ ان چھٹیوں سے دھوکا نہیں کھانا چاہئے۔اور یہ نہیں سمجھ لینا چاہئے کہ سکول سے چھٹی کے یہ معنی ہیں کہ ہر کام سے چھٹی ہوگئی۔چونکہ دوسرے دنوں میں تمہارے لئے تبلیغ کا موقع نہیں تھا اب موقع ہے اس لئے میں تمام بچوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ سفر میں اور حضر میں، گھر میں اور بازار میں جہاں جائیں تبلیغ کریں۔یہ مت سمجھو کہ تمہاری بات کا اثر کیا ہوگا اور یہ کہ تم ابھی بچہ ہو تمہارا بڑوں پر کیا اثر پڑے گا۔یہ ایک غلط خیال ہے اس کو دل سے نکال دینا چاہئے اور ابھی سے دل میں اس بات کو جگہ دینی چاہئے کہ ہم کچھ کر سکتے ہیں۔جب تک یہ بات پیدا نہ ہو جو بچے کچھ کر بھی سکتے ہیں وہ بھی کچھ نہ کر سکیں گے۔یہ مت سمجھو کہ تمہاری بات کا اثر نہیں۔اثر ہو نہ ہو تمہارا کام کہنا اور سمجھانا ہے۔رسول اللہ اللہ کے منہ سے جن لوگوں نے تبلیغ سنی وہ سب کے سب اسلام نہ لائے۔مگر انہی میں سے بعض نے صحابہ سے سنی تو ایمان لے آئے۔سو یہ مت خیال کرو تمہاری بات کا کچھ اثر | نہیں۔تم سناؤ۔یہ ضروری نہیں کہ سنے والامان بھی لے۔پھر یہ بھی ضروری نہیں کہ تبلیغ کسی بڑے الله آدمی کے منہ سے ہی سنی جائے۔ہم دیکھتے ہیں کہ ہزاروں آدمیوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا اور نہ مانا۔اور دوسروں سے سنا اور مانا۔یہی حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وقت ہوا۔بیسیوں شخص آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ان کے دعاوی اور دلائل سنے لیکن مانا نہیں۔اور بیسیوں نے غیروں سے سنا اور مان لیا۔پس تبلیغ کے لئے یہ ضروری نہیں کہ