زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 203
زریں ہدایات (برائے طلباء) 203 جلد سوم احمدی طلباء کو نصائح 14 اگست 1925ء کو بعد نماز عصر بیت المبارک میں طلبہ تعلیم الاسلام ہائی سکول و مدر ساحمہ یہ قادیان کے رخصتوں پر جانے کے موقع پر حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے طلباء کو تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حسب ذیل نصائح فرمائیں:۔اس وقت جو دونوں سکولوں کے طالب علم جمع ہوئے ہیں اس کی غرض یہ ہے کہ چونکہ اکثر طلباء جو اپنے اپنے گھروں میں ایامِ رخصت گزارنے کے لئے جانے والے ہیں اس لئے منتظمین مدارس نے مجھ سے خواہش کی ہے کہ میں طلباء کے جانے سے پہلے انہیں کچھ نصائح کروں جو ان کے لئے ان چھٹیوں میں مفید ثابت ہوں۔پس میں اپنے ان بچوں کی توجہ اس کی طرف پھیر نی چاہتا ہوں کہ ہر ایک لفظ جو منہ سے بولا جاتا ہے اس کے دو معنے ہوتے ہیں۔ایک معنے اس کی ذات میں ہوتے ہیں اور دوسرے نسبت سے۔ہمارے بچے خوش ہیں کہ اب انہیں رخصتیں ملی ہیں۔کیونکہ یہ ان کی فطرت میں ہے کہ وہ ایسی باتوں سے خوش ہوں جن سے انہیں پڑھنے سے فرصت مل جائے۔اور پھر ان کی محبت اور چیزوں کے ساتھ بھی ہے۔ان کے دلوں میں رشتہ داروں کی محبت ہے۔ماں باپ کی محبت ہے۔دوستوں کی محبت ہے اور یہ محبت کا ہونا درست ہے برانہیں بلکہ سارا کارخانہ ہی محبت پر ہے۔اور وہ اس لئے بھی خوش ہوتے ہیں کہ وہ ان لوگوں کو اب ملیں گے۔پس اگر وہ چھٹیوں سے خوش ہوں تو جائز ہے۔لیکن اس محبت سے یا اس خوشی سے وہ غلطی سے رخصت کا مضمون غلط نہ سمجھ لیں۔اس لئے میں چاہتا ہوں کہ پہلے ان کو رخصت کے معنے بتاؤں۔رخصت کے معنے ہیں اجازت۔کسی کو کسی کام کے لئے اجازت دینا یہ رخصت ہے اور تعطیل کام کو بند کر دینا ہے۔