زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 170
زریں ہدایات (برائے طلباء) 170 جلد سوم پس یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ تربیت سے جو اخلاق تعلق رکھتے ہیں وہ روحانیت سے تعلق نہیں رکھتے۔بہت ممکن ہے کہ ایک شخص بہت مخلص ہو مگر اس اخلاص میں تربیت کی کمی کی وجہ سے غلطیاں کرے۔کل ہی ہجوم میں ایک شخص نے ہجوم کو روکتے ہوئے بوٹ کے ساتھ میرے پاؤں کی انگلی کچل دی۔اگر اس کی بجائے ایک سپاہی ہوتا جسے اس کام کی تربیت حاصل ہوتی تو اسے معلوم ہوتا کہ مجھ سے کتنے فاصلے پر اسے کھڑا ہونا چاہئے تھا۔اس میں اخلاص تھا اور اخلاص ہی کی وجہ سے وہ یہ کوشش کر رہا تھا کہ ہجوم کے ریلے کو رو کے مگر چونکہ تربیت نہ تھی اس لیے جس تکلیف سے مجھے بچانا چاہتا تھا اس کا آپ ہی باعث بن گیا۔اسی طرح کئی لوگ پیچھے سے میرا کپڑا کھینچ لیتے ہیں یہ ان کا اخلاص ہوتا ہے مگر تربیت نہ ہونے کی وجہ سے تکلیف پہنچ جاتی ہے۔یا جلسہ کے وقت جب میں ہجوم میں سے گزر رہا ہوتا ہوں تو کئی آدمی چلتے چلتے میرے پاؤں دبانے لگ جاتے ہیں اور اس طرح کئی بار گرنے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔اگر ان باتوں کو اخلاص سے الگ کر کے دیکھیں تو یہ بد تہذیبی ہوگی۔مگر یہ تربیت کی کمی کا نتیجہ ہے۔بات اصل میں یہ ہے کہ اخلاق فاضلہ کے دو حصے ہیں ایک حصہ تربیت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور دوسرا روحانیت کے ساتھ۔اور میرے اس عقیدہ کے رو سے یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ کوئی قوم ایک ہی نسل میں کامل نہیں ہوسکتی۔سوائے خدا تعالی کی طرف سے آنے والے انسانوں کے۔پہلی نسل مخلص ہو گی مگر تربیت یافتہ نہ ہوگی۔وجہ یہ کہ وہ ایسے ہی لوگوں سے لئے جائیں گے جن میں اخلاق مفقود ہو گئے ہوں گے۔کیونکہ خدا تعالیٰ ایسے ہی لوگوں میں نبی بھیجتا ہے جو ہر رنگ میں گرے ہوئے ہوتے ہیں تاکہ وہ یہ ثابت کرے کہ اس نے ادنی لوگوں کو اپنے نبی کے ذریعہ اعلیٰ بنا دیا ہے۔تو ابتدا میں جماعت کا ہر فرد کامل نہیں ہوسکتا کیونکہ پہلے حصہ کے لوگ تربیت میں ناقص ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کوئی قوم دنیا میں اُس وقت تک دیر پا اثر قائم نہیں کر سکتی جب تک کہ وہ اپنی آئندہ نسل کی تربیت نہ کرے۔مگر اس کے ساتھ ہی یہ بھی مدنظر رہنا چاہئے کہ آئندہ نسل میں روحانیت اور اخلاص بھی قائم رہے۔بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ تربیت پر ہی ساری توجہ لگا دینے سے اخلاص اور روحانیت مرجاتی ہے اور انسان محض مشین کے