زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 103 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 103

زریں ہدایات (برائے طلباء) 103 جلد سوم طلباء مدرسہ احمدیہ کو نصائح 25 اپریل 1922ء کو نماز عصر کے بعد بورڈنگ مدرسہ احمدیہ قادیان میں طلباء مدرسہ احمدیہ نے مولوی فاضل کے امتحان میں جانے والے طلباء کوئی پارٹی دی۔اس موقع پر حضرت خلیفہ اسح الثانی نے تشہد، تعوذ اور تلاوت سورۃ فاتحہ کے بعد حسب ذیل نصائح فرمائیں:۔دو بعض باتیں اس ایڈریس کے متعلق جو مدرسہ احمدیہ کے طالب علموں نے مولوی فاضل کے امتحان کے لئے جانے والوں کو دیا ہے کہنا چاہتا ہوں۔پیچھے بھی ایک موقع پر میں نے بعض | نصائح کی تھیں۔اور یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ ایک حد تک ان کا خیال رکھا گیا ہے۔لیکن پھر بھی بعض باتیں اصلاح کے قابل ہیں۔(1) جو نصائح اس مضمون میں بیان ہوئی ہیں وہ ایسی ہیں جو بڑا چھوٹے کو کرتا ہے۔کئی قسم کی نصائح ہوتی ہیں۔بعض وہ جو بڑے چھوٹے کو کرتے ہیں اور بعض وہ جو چھوٹے بڑوں کو کرتے ہیں۔اس میں شک نہیں کہ ایک مدرسہ میں پڑھنے والے ایک دوسرے سے امید رکھتے ہیں کہ جو پہلے جائیں وہ ان کے مدرسہ کے لئے نیک نمونہ قائم کرنے والے ہوں۔مگر تمام ایڈریس ایسی باتوں پر مشتمل ہے جو بزرگ کی شان کے شایاں ہیں کہ چھوٹوں کو کہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایڈریس لکھنے والوں نے اس مقام کو نہیں سوچا جس پر وہ کھڑے ہیں۔ایڈریس لکھنے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ لکھنے والے اپنے اور دوسرے کے مقام کو مدنظر رکھیں اور پھر مناسب موقع کلام کریں۔(2) دوسری بات یہ ہے کہا گیا ہے کہ دوسروں کو باہر جانے کا موقع نہیں ملا۔آدمیوں کی قلت کی وجہ سے انہیں مرکز میں ہی رکھ لیا گیا ہے۔مگر آپ طلبائے جماعت (مولوی فاضل )