زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 102 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 102

زریں ہدایات (برائے طلباء) 102 جلد سوم کے اندر بھی یہ اخلاق پیدا ہورہے ہیں کیونکہ ان کو بھی وظیفہ قرضہ حسنہ کے طور پر دیا جاتا ہے لیکن پھر بھی دوسروں کو فوقیت ہے۔ذی ثروت طلباء سے مدرسہ کا وقار بھی بڑھتا ہے اس لئے ایسے دوستوں کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے بچے مدرسہ احمدیہ میں داخل کرائیں۔مگر یہ یاد رکھنا چاہئے کہ بعض لوگ اپنے ایسے لڑکوں کو جو دوسرے سکولوں میں تعلیم کے قابل نہیں ہوتے ادھر بھیج دیتے ہیں ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ان لڑکوں کو داخل کرائیں جو ہوشیار اور ہونہار ہوں۔دین کے راستہ میں مال کی ہی قربانی نہیں بلکہ مکمل قربانی تب ہوگی جب اپنے مالوں کے علاوہ اپنی اولادوں کو بھی قربان کرو گے۔جو دوست نمائندہ بن کر آئے ہیں ان کو بھی تاکید کرتا ہوں کہ وہ بھی اپنے بچوں کو مدرسہ احمدیہ میں داخل کرائیں اور دوسروں کو بھی جا کر تاکید کریں کہ وہ بھی اپنے خرچ پر پڑھنے والوں کو مدرسہ احمدیہ میں بھیجیں۔مدرسہ احمدیہ میں اپنے خرچ پر پڑھنے والے طلباء کا قلیل التعداد میں ہونا کیا ثابت نہیں کرتا کہ جو اپنے خرچ پر پڑھ سکتا ہے ادھر آنا نہیں چاہتا اور نہ کیا وجہ ہے کہ دوسرے مدرسہ میں زیادہ اپنے خرچ پر پڑھنے والے ہوں۔اس نظارہ کو سامنے لا کر ان کے بدن میں لرزہ آ جاتا ہے کیونکہ اس کے یہ معنے ہوئے کہ جہاں تک ہمارا بس چلتا ہے ہم دینی علوم سیکھنے کی طرف ہرگز منہ نہیں کریں گے۔ہاں جب مجبور ہو جائیں گے اور دوسرے مدرسہ میں داخل ہونے کی کوئی صورت نہیں رہے گی اُس وقت مدرسہ احمدیہ میں داخل ہو جاویں گے یہ بڑی گندی روح ہے اس کو فوراً دور کرنا چاہئے۔“ (الفضل 17 اپریل 1922ء) (1922/17