زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 40

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 40 جلد دوم قول و فعل ایک ہیں۔یعنی سائنس و مذہب میں کوئی تضاد نہیں۔سائنس خدا کے فعل کا نام ہے اور الہام اس کے قول کا۔اگر خدا ایک ہے تو اس کا قول اور فعل بھی ایک ہونا چاہئے۔اور اگر ان دونوں میں تضاد ہو تو ان میں سے ایک ضرور جھوٹ ہوگا۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی غرض کو مدنظر رکھ کر ان سکولوں کو قائم کیا تھا۔ہائی سکول کی غرض یہ تھی کہ جماعت کے بچے دنیوی تعلیم کے علاوہ مذہبی علوم سے بھی واقفیت حاصل کریں اور انہیں روحانیات سے مس پیدا ہو سکے۔اور احمد یہ سکول کی غرض یہ تھی کہ ایسے علماء پیدا ہوں جو لکیر کے فقیر نہ ہوں اور الفاظ کے بیچ میں خدا کے فعل کو نہ بھول جائیں۔اور جب تک ان سکولوں میں پڑھنے والے طلباء میں یہ باتیں موجود نہ ہوں ان سے وہ اغراض پوری نہیں ہوسکتیں جو ان کے بناتے وقت مد نظر تھیں۔اور جب اغراض پوری نہ ہوں تو بہتر ہوگا کہ ان کو بند کر دیا جائے۔پس اس وقت مدرسہ احمدیہ کے طلباء تو یہاں موجود نہیں ہائی کے ہیں جن کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ ان کا یہاں آنا اس غرض سے ہے کہ دنیوی تعلیم کے ساتھ ساتھ مذہبی اور دینی علوم بھی سیکھیں۔یہ خیال کرنا جہالت ہے کہ دنیوی علوم دینیات کے راستہ میں روک ہیں۔جس کے راستہ میں دنیوی علوم حائل ہوں وہ دین ہی نہیں ہو سکتا۔پس اس سکول کے طالب علم دینی علوم کو بھی ساتھ ساتھ ترقی دینے کی کوشش کرتے رہیں۔دینی ترقی کے لئے یہاں ایک اور بھی موقع ہے جو باہر حاصل نہیں ہو سکتا۔یا درکھنا چاہئے کہ دنیا میں دلیل ایک حد تک ہی فائدہ دے سکتی ہے۔دلیل یقین نہیں صرف شک پیدا کرسکتی ہے۔اور انسان اس چیز کے متعلق کبھی اچھا اور کبھی برا خیال کرنے لگ جاتا ہے۔مثلاً ایک شخص خدا کا قائل ہے۔اب اگر اس کے خلاف اسے دلائل دیئے جائیں تو نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ شبہ میں پڑ جائے گا کہ شاید خدا نہ ہی ہو۔یا ایک دہریہ کے سامنے ہستی باری تعالٰی کے دلائل پیش کئے جائیں تو اس کو شبہ پیدا ہو جائے کہ خدا ہے۔یا زیادہ سے زیادہ وہ کہے کہ ہم یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتے کہ خدا نہیں۔یا یہ کہ غالب گمان ہے