زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 39 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 39

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 39 جلد دوم ہو سکتی ہے۔اور اسی طرح ظاہری علوم کے لئے ہمارے اس ہائی سکول سے زیادہ بہتر انتظام دوسرے مقامات پر موجود ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ہمارے سکولوں کی غرض یہ نہیں کہ طلباء مدرسہ احمدیہ سے دینی اور ہائی سکول سے دنیوی تعلیم حاصل کر کے نکلیں۔بلکہ ایک زائد چیز ہے اور وہ یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دنیا کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ معلوم کیا کہ عموماً دنیا میں عالم اسے کہا جاتا ہے جو چند کتابیں طوطے کی طرح رٹ لے اور ان کے ماتحت اپنی تمام زندگی ایک غلام کی طرح بسر کر دے۔اسی طرح ظاہری علوم والے بھی دنیا میں موجود ہیں لیکن اس کے یہ معنی سمجھے جاتے ہیں کہ باطنی اور روحانی تعلیم کی ضرورت نہیں۔گویا ایک طرف تو دینی علوم حاصل کرنے والے ہیں جو اپنے آپ کو خدا کی دی ہوئی عقل اور اس کے فعل کے مطالعہ سے مستغنی کہتے ہیں اور دوسری طرف دنیوی علوم حاصل کرنے والے ہیں جو روحانیت کے مطالعہ سے بے نیاز ہیں۔حالانکہ یہی وہ دو چیزیں ہیں جن کے مجموعہ کا نام انسان ہے۔اس طرح انسانیت دو قسم کے لوگوں میں تقسیم ہو گئی تھی۔اس کے دونوں حصے دنیا میں موجود تھے لیکن ایک ایک فریق کے پاس اور دوسرا دوسرے کے۔حالانکہ اللہ تعالیٰ کا منشاء یہ تھا کہ دونوں چیزیں دنیا کے ہر فرد کے اندر اکٹھی موجود ہوں۔ایک انسان کے لئے دو آنکھیں ضروری ہیں لیکن اگر دو کی ایک ایک آنکھ ہو تو دونوں مل کر دو آنکھوں والا انسان نہیں ہو سکتا۔بلکہ دونوں کانے ہوں گے۔اسی طرح اگر ایک شخص کے ہاتھ نہ ہوں اور دوسرے کے پاؤں نہ ہوں تو دونوں مل کر ایک کامل انسان نہیں بن سکتے بلکہ دونوں ناقص انسان ہوں گے اور ان کی موجودگی میں بھی دنیا کو دو کامل وجودوں کی احتیاج رہے گی۔یا ایک شخص کا بایاں ہاتھ ہو اور دوسرے کا دایاں ہو تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔کیونکہ کامل انسان میں دونوں ہاتھوں کا ہونا ضروری ہے۔اسی طرح ہر فرد تب مکمل ہو سکتا ہے جب وہ اپنی ذات میں روحانی و جسمانی علوم کا جامع ہو۔ایک طرف خدا کے قول سے اور دوسری طرف اس کے فعل سے واقف ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آکر دنیا کو بتا دیا ہے کہ خدا تعالیٰ کا