زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 38 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 38

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 38 88 جلد دوم تعلیم الاسلام ہائی سکول اور مدرسہ احمدیہ کے قیام کی اغراض 23 جنوری 1932ء کو تعلیم الاسلام ہائی سکول کی طرف سے حضرت مولوی جلال الدین شمس صاحب کی کامیاب واپسی پر دعوت کی گئی جس میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی بھی تشریف لائے۔اس موقع پر حضور نے تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حسب ذیل خطاب فرمایا:۔" آج میری طبیعت اس قدر خراب تھی کہ ڈاکٹر صاحب نے بستر میں رہنے کا مشورہ دیا تھا مگر چونکہ میں اس دعوت میں شریک ہونے کا وعدہ کر چکا تھا اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ شامل ہو جاؤں۔ہمارا سکول دراصل ایک عظیم الشان ضرورت کو پورا کرنے کے لئے بنایا گیا ہے۔ظاہری اور دنیوی تعلیم کے لئے دنیا میں اور بہت سے سکول ہیں۔اس سکول میں کئی طالب علم ایسے ہیں جو لاہور، امرتسر بلکہ بعض بمبئی ، کلکتہ وغیرہ مقامات سے آئے ہوئے ہیں اور ظاہری تعلیم کا انتظام ان کے شہروں میں قادیان کی نسبت بہت اچھا ہے۔پس جب قادیان کے سکول کو بورڈنگ سکول بنایا گیا ہے تو اس کی ضرور کوئی خاص وجہ ہوگی۔مولوی جلال الدین صاحب نے اپنی تقریر میں دونوں مدرسوں کا ذکر کرتے ہوئے بیان کیا ہے کہ مدرسہ احمدیہ کی غرض دینیات سے طلباء کو واقف کرنا ہے اور ہائی سکول کی غرض یہ ہے کہ طلباء دنیوی علوم بھی حاصل کر سکیں۔میں اسی امر کو کسی قدرا صلاح کے ساتھ ان طلباء کے فائدے کے لئے جو اس وقت یہاں موجود ہیں بیان کرنا چاہتا ہوں۔دنیا میں اس وقت علماء کی کمی نہیں۔اور علم سے مراد اگر وہ کتابیں اور کورس ہیں جو احمد یہ سکول میں پڑھائے جاتے ہیں تو یہ بات دنیا میں اور بھی بہت سے مقامات پر حاصل