زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 33
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 33 جلد دوم الله ہے کہ ہم لوگوں کے الفاظ کی طرف توجہ نہ رکھیں بلکہ ہماری توجہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہو۔اسی وجہ سے خدا تعالیٰ پہلے اپنے بندوں کو لوگوں سے گالیاں سنوا تا تکلیفیں پہنچاتا اور پھر انہیں بڑا بناتا ہے۔یہ بتانے کے لئے کہ لوگوں کی باتیں کوئی حقیقت نہیں رکھتیں ورنہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح بدر کے موقع پر ابو جہل کی زبان کاٹ دی بدر سے پہلے بھی وہ اس کی زبان کاٹ سکتا تھا۔کسی انسان کی تلوار نے ابو جہل، عقبہ اور شیبہ کی زبانیں نہیں کائی تھیں بلکہ وہ خدا کی تلوار ہی تھی جس نے ان کو ہمیشہ کے لئے خاموش کر دیا۔اور یہ تلوار نہ مسلمانوں کی تعداد سے تعلق رکھتی تھی اور نہ ہی انسانی طاقت کی محتاج تھی بلکہ جس طرح بدر کے موقع پر چمکی اسی طرح مکہ کے ابتدائی ایام میں بھی دشمنوں کے خلاف چمک سکتی تھی۔مگر کیوں پھر تیرہ سال پہلے یہ تلوار نہ چلی؟ اس کی وجہ یہی تھی کہ اللہ تعالیٰ یہ بتانا چاہتا تھا کہ لوگوں کی باتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حاصل ہونے والی تعریف اور ثناء کے مقابلہ میں کوئی حقیقت نہیں رکھتیں۔خدا تعالیٰ یہ بتانا چاہتا تھا کہ محمد ﷺ ہمارا نور ہے اور اللهُ نُورُ السَّمَوتِ وَالْاَرْضِ 1 کا مظہر۔مگر باوجود اس کے کہ یہ بڑا عقلمند ہے لوگ کہتے ہیں کہ یہ بڑا پاگل ہے۔باوجود اس کے کہ یہ بڑا بے نفس ہے لوگ کہتے ہیں کہ یہ بڑا لا لچی ہے۔باوجود اس کے کہ یہ بڑا منکسر المزاج ہے لوگ کہتے ہیں کہ یہ بڑا متکبر ہے۔باوجود اس کے کہ یہ بڑا مومن بلکہ اول المومنین ہے لوگ کہتے ہیں کہ یہ بڑا کا فر ہے۔اور باوجود اس کے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا مقرب ہے لوگ کہتے ہیں کہ یہ خدا سے دور ہے۔غرض ہر ایک کمال جو اس کے اندر پایا جاتا ہے ان کی نظر سے مخفی ہے۔اور ہر خوبی جو محمد ﷺ میں پائی جاتی ہے ان کی نگاہ میں عیب ہے۔لیکن باوجود اس کے کہ ساری دنیا مل کر اسے معیوب بتاتی۔ہے، اسے جھوٹا اور مفتری قرار دیتی ہے ایک دن نہیں، دو دن نہیں ، تین دن نہیں بلکہ مسلسل اور متواتر اور اصرار کے ساتھ ان باتوں میں بڑھی جاتی ہے اور اس کا ہر اگلا قدم اسے عناد اور بغض میں ترقی دیتا ہے۔ایک دن آیا جبکہ وہی جو عیب دیکھنے والے تھے انہیں آپ میں خوبیاں نظر آنے لگیں اور وہی جو آپ کو برا کہنے والے تھے آپ کی تعریف کرنے