زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 32
زریں ہدایات (برائے مبلغین) 32 جلد دوم یہ اچھا نبی آیا کہ اپنے ساتھ طاعون اور زلزلے لے آیا اور جدھر دیکھو آفات ہی آفات نظر آتی ہیں۔تو خیر محض صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی صفات قہر یہ بھی ہیں مگر وہ بھی مخلوق کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں اور ان کا موجب بھی خود مخلوق ہی ہوا کرتی ہے۔بہر حال وہی ایک ایسی ذات ہے جو تمام خوبیوں کی جامع ہے۔باقی تمام چیزیں ایسی ہیں کہ یا تو ان میں نقائص ہوں گے یا کم سے کم ان کے ساتھ ایسی باتیں وابستہ ہوں گی جو دنیا کے لئے اگر ایک طرف ترقی کا موجب ہوں تو دوسری طرف تنزل کا بھی باعث ہوتی ہیں۔اسی طرح دین کی تبلیغ بھی گو ایک نہایت اعلیٰ درجہ کی نیکی ہے لیکن تبلیغ کے ساتھ ایک نقص بھی لگا ہوا ہے۔اور وہ یہ کہ ہو سکتا ہے مبلغ لفاظی یا محض باتوں ہی باتوں میں الجھ کر رہی جائے اور حقیقت سے کوسوں دور ہو جائے۔چونکہ اس کا واسطہ ہمیشہ ایسے لوگوں سے پڑتا ہے جن کے سامنے اس کا دل کھلا نہیں ہوتا بلکہ صرف زبان چلتی ہے اور وہ نہیں جانتے کہ اس کے دل میں نور ہے یا تاریکی بلکہ وہ صرف یہ دیکھتے ہیں کہ اس کی زبان کیسی ہے۔اور چونکہ وہ اس کی تعریف اور ثناء اس نور کی وجہ سے نہیں کرتے جو اس کے دل میں ہوتا ہے بلکہ محض زبان کی وجہ سے کرتے ہیں جس سے انہیں کسی قسم کا حظ حاصل ہوتا ہے۔اس لئے آہستہ آہستہ اگر اس کا تعلق خدا تعالیٰ سے کامل نہیں ہوتا اور اس کے دل کا نور ابھی مکمل نہیں ہوتا تو وہ اس ثناء اور تعریف سے متاثر ہو کر اور زبان کی شیرینی سے مسحور ہو کر اس وسوسہ میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ یہی وہ چیز ہے جس کی مجھے ضرورت تھی۔تب اسی گھڑی سے اس کے دل کا نور سمٹنے لگتا ہے اور وہ سمٹتے سمٹتے اس کے قلب کے ایک گوشہ میں چھپ جاتا ہے اور دل کے اس میدان میں جہاں روحانیت کی جگہ ہونی چاہئے تھی جہاں آسمانی نور اور برکات کی جگہ ہونی چاہئے تھی کبر اور عجب اپنا ڈیرہ جما لیتا ہے۔پس میں اس وقت یہ نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ ہماری جماعت اور دوسری جماعتوں میں جو فرق ہے وہ یہی ہے کہ ہمیں یہ ہدایت کی گئی ہے اور اس امر کی طرف توجہ دلائی گئی