زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 357 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 357

زریں ہدایات (برائے مبلغین) 357 جلد دوم کا تھا۔انہیں بھی پہلے تھوڑے سے لوگوں نے قبول کیا۔لیکن بعد میں سارے لوگ آپ پر ایمان لے آئے۔بدھ کی بھی یہی حالت تھی۔ان کی اپنی زندگی میں انہیں بہت تھوڑے آدمی ملے۔لیکن بعد میں لوگوں نے یکدم ان کی طرف رجوع کر لیا۔ان کے مقابلہ میں ہماری جماعت میں ابھی گروہ در گروہ لوگ آنے شروع نہیں ہوئے بلکہ ایک ایک دو دو کر کے آ رہے ہیں۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس زمانہ میں اور پہلے زمانوں کے حالات میں فرق ہے۔اس زمانہ میں چاہے صحیح ہے یا غلط یہ بات ذہن میں راسخ ہوگئی ہے کہ ہم زیادہ تعلیم یافتہ ہیں اور قومی رو ختم ہو گئی ہے۔اب قبائلی سسٹم کہیں نظر نہیں آتا بلکہ قبائلی طریق کو مٹانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ایک رنگ میں یہ ہے بھی صحیح اور ہم بھی اس بات کے قائل ہیں کہ ہر شخص کو خود غور کرنے اور سمجھنے کا موقع دینا چاہئے۔جاٹ ، ارائیں، گوجر، اعوان اور دوسری سب اقوام کسی زمانہ میں ایک لیڈر کے ماتحت ہوا کرتی تھیں اور وہ جو کچھ کہتا تھا اس کے پیچھے چل پڑاتی تھیں۔لیکن نئی تعلیم نے ان کے ذہنوں میں یہ بات راسخ کر دی ہے کہ تم خود فیصلہ کا حق رکھتے ہو۔تمہیں خود مناسبہ غور اور سمجھ کے بعد ہر بات کا فیصلہ کرنا چاہئے۔چنانچہ اب یہ حالت ہو گئی ہے کہ وہ کسی سیاسی لیڈر کے پیچھے تو لگ جائیں گے لیکن قومی لیڈر کے پیچھے نہیں لگیں گے۔غرض ہمارا ایسے لوگوں سے واسطہ ہے جو انفرادیت کے قائل ہیں قومیت کے قائل نہیں۔اور ایک ایک فرد کو جماعت میں داخل کرنا بڑا مشکل کام ہوتا ہے۔پہلے یہ حالت تھی کہ رسول کریم ﷺ کے پاس ایک آدمی آتا تو آپ اس سے سوال کرتے کہ کیا تم اکیلے آئے یا تمہارے پیچھے تمہاری قوم بھی ہے؟ وہ کہتا یا رسول اللہ ! میری قوم میر ہے۔اور عملاً یہی ہوتا کہ کسی قوم سے کچھ لوگ ایمان لے آتے تو ساری قوم ان کے پیچھے آجاتی۔ہمیں تاریخ سے ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی کہ کسی شخص نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ کہا ہو کہ یا رسول اللہ ! میری ساری قوم میرے پیچھے ہے اور پھر اس کی قوم اس کے پیچھے نہ آئی ہو۔لیکن ہماری حالت اس کے برعکس ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے