زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 31

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 31 جلد دوم مبلغین جماعت احمدیہ کوضروری ہدایات حضرت مولوی جلال الدین صاحب شمس کی کامیاب واپسی پر طلباء مدرسہ احمدیہ و جامعہ احمدیہ نے ان کے اعزاز میں 14 جنوری 1932ء کو دعوت دی جس میں حضرت خلیہ اسیح الثانی بھی تشریف لائے۔اس موقع پر حضور نے تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد درج ذیل تقریر فرمائی:۔” میری طبیعت آج اچھی نہیں ہے اس لئے میں زیادہ تو نہیں کہنا چاہتا لیکن چونکہ یہ دعوت جن کی وجہ سے ہوئی ہے وہ ہماری جماعت کے ایک مبلغ ہیں اس لئے اس قدر اختصار کے ساتھ بتانا چاہتا ہوں کہ ہر چیز میں جہاں خوبیاں ہوتی ہیں وہاں بعض عیوب بھی اس میں پائے جاتے ہیں اور جہاں کسی چیز میں عیب ہوتے ہیں وہاں بعض محاسن بھی اس میں ہوا کرتے ہیں۔بری سے بری اور معیوب سے معیوب چیز لے لو اس کا کوئی نہ کوئی اچھا پہلو ہو گا۔اور ا گا۔اور اعلیٰ سے اعلیٰ اور اچھی سے اچھی چیز لے لو اس کا کوئی نہ کوئی خراب پہلو بھی ہوگا۔ہاں اگر کوئی ہستی ایسی ہے جو خیر ہی خیر ہے اور جس کے حسن کے ساتھ کسی قسم کے شرکا تعلق نہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ورنہ انسانوں میں سے خواہ انبیاء ہی کیوں نہ ہوں ان کی طرف بھی شرمنسوب کئے جاتے ہیں اور گو وہ ان کی ذات سے پیدا نہیں ہوتے مگر ان کے آنے کے ساتھ لوگوں کی شرارتوں اور بد اعمالیوں کی وجہ سے دنیا کے ایک حصہ پر آفات اور مصائب کا نزول ہوتا ہے اس لئے ان کی طرف انہیں منسوب کرتے ہیں۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں کئی لوگ کہا کرتے تھے