زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 348 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 348

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 348 جلد دوم میں ہم حروف کو ایک دوسرے میں مخلوط کر دیتے ہیں لیکن عربی زبان میں ہم حروف کو ایک دوسرے میں مخلوط نہیں کر سکتے۔ہمارے حروف کو ایک دوسرے میں مخلوط کرنے کا یہ نتیجہ ہو گا کہ ان کے معنے کچھ نہیں بنیں گے۔مثلاً ہمارے رسول اللہ ﷺ کا نام محمد ہے۔عرب جب محمد کہے گا تو وہ م - حُمُ - مَد کہے گا۔لیکن ہمارے ہاں اس کو محمد یا مهمند کہیں گے یا پھر ہزارہ کے لوگ ح“ کو ”خ“ پڑھیں گے اور محمد کہیں گے۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم حروف کو الگ الگ کر کے نہیں پڑھتے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ امریکہ کی کاک ٹیل پارٹی (COCKTAIL PARTY) کی طرح الفاظ کی ایک کاک ٹیل پارٹی بن جاتی ہے یعنی مختلف الفاظ آپس میں ملا دئیے جاتے ہیں۔یہ دست درازی کم از کم قرآن کریم پر نہیں ہونی چاہئے۔1300 سال سے مسلمانوں نے اس کو محفوظ رکھا ہے۔تمہیں بھی اسے محفوظ رکھنا چاہئے اور قرآن کریم کی تلاوت پر خاص توجہ دینی چاہئے۔جہاں مجھے ایک چیز سے خوشی ہوئی ہے کہ مولوی دوست محمد صاحب نے جو جواب ایڈریس پیش کیا ہے وہ گولکھا ہوا تھا لیکن معلوم ہوتا ہے انہوں نے اردو کے تلفظ کو سیکھنے کی کوشش کی ہے اور تقریر کرنے کی انہیں مشق ہے وہاں محمد شفیع صاحب اشرف جو درجہ ثالثہ کے سیکر ٹری کی ہیں انہوں نے ایڈریس اتنی جلدی پڑھا ہے کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ گو یا چناب ایکسر پس چل رہی ہے۔یہ تیزی گھبراہٹ سے پیدا ہوتی ہے۔جلدی کا بھی موقع ہوتا ہے اور وہ تقریر کا آخری حصہ ہوتا ہے۔جب لیکچرار سامعین کے جذبات کو ابھارتے ابھارتے اس مقام پر لے جاتا ہے کہ اس کا ذہن اور سامعین کے ذہن ایک سطح پر آجاتے ہیں اُس وقت آہستہ بولنا بے وقوفی ہوتا ہے۔پس تقریر میں اس بات کا لحاظ رکھنا چاہئے کہ گھبراہٹ پیدا نہ ہو۔تقریر کرنے والا اس لئے کھڑا ہوتا ہے کہ سامعین کو کچھ بتائے اور انہیں وہ علم سکھائے جو انہیں پہلے نہیں آتا۔اور جب یہ بات ہے تو پھر گھبرانے کی کیا وجہ ہے۔سامعین تو اس سے علم میں بیچ ہیں اس لئے اگر تقریر کرنے والا وہ باتیں پیش کرتا ہے جو سامعین پہلے سے جانتے ہیں تو یہ بے وقوفی ہے۔لطیفہ مشہور ہے کہ ایک صاحب جحا تھے