زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 347 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 347

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 347 جلد دوم کا اندازہ لگا لینا چاہئے۔ہمارے بہنوئی نواب محمد علی خان صاحب کو اس بات کا شوق تھا۔انہوں نے ہر چیز کے اندازے لگائے ہوئے تھے۔مجھے ٹھیک طور پر تو یاد نہیں لیکن غالبا ان کا تجربہ یہ تھا کہ فی سیر گوشت کے پکانے میں دو سیر لکڑی خرچ ہوتی ہے۔اور فی سیر آٹا سیر یا ڈیڑھ سیر لکڑی سے پک جاتا ہے۔بہر حال وہ ہر چیز کا حساب رکھتے تھے۔اگر اس قسم کے اندازے لگائے جائیں تو اخراجات میں تخفیف ہو جاتی ہے۔اور اس کے ساتھ ہی یہ بھی بتایا جائے کہ ایک لڑکے کے لئے اتنا گوشت، اتنا گھی ضرور ہو گا۔ہفتہ میں اتنے وقت گوشت ہوگا اور اتنے وقت تر کاری ، اتنے وقت دال ، ناشتہ میں یہ یہ اشیاء ہوا کریں گی۔پس آج میں ایک نصیحت تو یہ کرتا ہوں کہ طلباء کی صحت کا خیال رکھا جائے اور وہ اس کے مقابل پر محنت کا خیال رکھیں۔دوسری اہم چیز جس کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ قرآن ہے۔جامعہ احمدیہ کے استاد بھی یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ میں نے تعلیم الاسلام ہائی سکول اور تعلیم الاسلام کالج کے طلباء کو جامعہ احمدیہ کے لڑکوں کی نسبت اچھا قرآن پڑ دیکھا ہے۔میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسا کیوں ہے۔ایک نوجوان نے ابھی قرآن کریم پڑھا ہے اس نے ہر جگہ غلطی کی ہے۔زیر اور زبر کی غلطیاں تو الگ رہیں جہاں مر نہیں تھی اس نے وہاں مد بنائی ہے اور جہاں تھی وہاں اس نے مد نہیں بنائی۔میں نے پرنسپل صاحب سے پوچھا یوں تو انہوں نے جامعہ احمدیہ کے اساتذہ کی تعریف کی ہے اور ان کا شکر یہ ادا کیا ہے لیکن مجھ سے انہوں نے یہی کہا تھا کہ یہ لڑکا میرا نہیں۔یہ ابھی ابھی جامعہ احمدیہ سے آیا ہے۔آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ سارے استاد عربی جانتے ہیں ، قرآن کریم جا۔ہیں ، لیکن کسی کو معلوم نہیں کہ ان کا شاگر د قرآن کریم پڑھتے ہوئے غلطی کر رہا ہے۔لڑکے شروع سے عربی پڑھتے ہیں لیکن افسوس کہ قرآن کریم پڑھتے ہوئے وہ اس قدر غلطیاں کرتے ہیں کہ حیرت آتی ہے۔عربی زبان میں یہ خصوصیت ہے کہ اس کا ہر حرف الگ پڑھا جاتا ہے۔جب تک ہر حرف کو الگ نہ پڑھیں تلفظ ٹھیک نہیں ہوتا۔دوسری زبانوں