زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 346
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 346 جلد دوم کبھی ناشتہ کا خاص احساس ہوا ہو یا ہم نے کھانا کھانے میں کبھی وقت کی پابندی کی ہو۔کبھی دس بجے کھانا کھا لیا اور کبھی چار بچے کھانا کھا لیا۔ہمیں اس بارہ میں وقت کی پابندی کا کوئی احساس نہ تھا۔تو اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ہم بہت بوجھ برداشت کر لیتے ہیں لیکن صحت اور جسم کی بناوٹ کمزور ہوگئی ہے۔چند دن ہوئے مجھے ایک طالب علم ملنے کے لئے آیا۔اس کی صحت دیکھ کر مجھے خوشی ہوئی۔میں نے جب اس کا مضبوط جسم اور لمبا قد دیکھا تو مجھے بہت اچھا لگا۔میں نے کہا میاں ! تمہاری صحت اور قد تو بہت اچھا ہے، چہرے پر رونق بھی ہے مگر دوسرے طلباء کی صحت ایسی نہیں۔تم بتاؤ اس کی کیا وجہ ہے؟ معلوم ہوتا ہے وہ لڑکا ذہین تھا وہ بغیر کسی تردد کے کہنے لگا غذا اچھی نہیں ملتی۔اس لڑکے نے مجھے یہ بھی بتایا کہ ایک سو طلباء کو پانچ چھٹانک گھی ملتا ہے۔اب آپ حساب لگا لیں کہ اس کے نتیجہ میں صحت اور قد کیسے بڑھ سکتا ہے۔اگر واقعہ یہی ہے تو اس لڑکے نے مبالغہ نہیں کیا۔تو سو آدمیوں کے لئے پانچ چھٹا تک گھی کے یہ معنی ہیں کہ ایک شخص کو 1/4 تولہ گھی ملا۔اور 1/4 تولہ گھی تو وہ نوکر عورت جو دودھ بلوتی ہے اور مکھن نکالتی ہے گھی ادھر ادھر کرتے ہوئے اپنے سر پرمل لیتی ہے۔پس یہ ایک نہایت خطرناک چیز ہے۔اس وقت ناظر صاحب تعلیم و تربیت بھی اس مجلس میں موجود ہیں۔کوئی وجہ نہیں کہ دوسروں کے تجربات سے ہم فائدہ نہ اٹھائیں۔یورپین لوگوں نے ہر چیز کے اندازے لگا رکھے ہیں کہ اگر اتنی ترکاری ہو تو اس میں اتنا گھی ڈالنا چاہئے۔اسکول کے اساتذہ کو یہ اختیار نہیں ہوتا کہ وہ اس میں تبدیلی کرسکیں۔لیکن ہمارے پاس اس کے متعلق کوئی قانون نہیں ہے۔میں نے اس طالب علم سے دریافت کیا کہ تمہارے کھانے کا خرچ کیا ہے؟ اس نے کہا دس گیارہ روپے ماہوار خرچ ہے۔میں نے کہا جس قسم کا کھانا تمہیں ملتا ہے میں وہ کھانا چار پانچ روپے میں مہیا کر سکتا ہوں۔محکمہ تعلیم کو چاہئے کہ وہ چارٹ بنائے کہ اتنا گوشت یا ترکاری فی طالب علم چاہئے۔اور اگر اتنی مقدار میں ترکاری ہو تو اس میں گھی کی نسبت اس قدر ہونی چاہئے۔اسی طرح لکڑی وغیرہ