زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 338
زریں ہدایات (برائے مبلغین) 338 جلد دوم گے تو دین تمام خطروں سے محفوظ ہو جائے گا۔اور اگر کسی ایک جگہ دین کی شمع کو بجھایا جائے گا تو تم فوراً ایک دوسرے مقام پر اس شمع کو روشن کر دو گے۔اگر شیطانی طاقتوں میں ایک زندگی پائی جاتی ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ مومنوں کے اندر اس سے بڑھ کر زندگی نہ ہو۔میں نے ایک دفعہ رڈیا میں دیکھا کہ ہمارے گھر میں ایک سوراخ میں سے آگ کا ایک شعلہ نکلا۔میں اسے بجھانا چاہتا ہوں تو معا دوسری جگہ سے ایک اور شعلہ نکلنا شروع کی ہو جاتا ہے۔میں اس کی طرف دوڑتا ہوں تو تیسری جگہ سے آگ نکلنی شروع ہو جاتی ہے۔آخر میں حیران ہو کر کھڑا ہو گیا کہ اب میں ان شعلوں کو کس طرح دباؤں۔اُس وقت میں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لائے ہیں اور آپ ایک سوراخ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ محمود ! تم اس جگہ کو دباؤ۔میں نے اس جگہ پر اپنا ہاتھ رکھا تو تمام شعلے خود بخود بجھ گئے۔پس جب شیطان کے اندر یہ طاقت ہے کہ وہ اپنے آپ کو زندہ رکھنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کا مٹانا مشکل ہو جاتا ہے تو کیا نعوذ باللہ خدا تعالیٰ میں ہی یہ طاقت نہیں کہ وہ اپنے آپ کو زندہ رکھ سکے؟ اس میں طاقت ہے مگر اس کے زندہ رہنے کی یہی صورت ہوتی ہے کہ مومن اپنے دل میں یہ ارادہ رکھتے ہوئے آگے بڑھتا ہے کہ اگر مجھے یہاں مارا گیا تو میں وہاں زندہ ہو جاؤں گا۔وہاں مارا گیا تو یہاں زندہ ہو جاؤں گا۔جب یہ روح کسی جماعت میں پیدا ہو جاتی ہے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے مٹا نہیں سکتی۔کیونکہ کوئی طاقت ایسی نہیں جو دنیا میں ہر جگہ پہنچ سکے۔جب خدا تعالیٰ کا نور دنیا کے گوشے گوشے سے پھوٹ پڑنے کو تیار ہو ، جب مومن کا عزم اسے ہر جگہ پہنچنے کے لئے بے قرار کر رہا ہو ، جب موت اس کی نظروں میں ایک حقیر اور ذلیل چیز ہو کر رہ جائے اور خدا تعالیٰ کی راہ میں مرنا اسے اپنا سب سے بڑا مقصد دکھائی دے تو شیطان مایوس ہو جاتا ہے اور وہ حیران ہوتا ہے کہ میں اب کہاں جاؤں۔یہاں جاؤں یا وہاں جاؤں۔اس کو مٹاؤں یا اس کو مٹاؤں۔دنیا کی کا چپہ چپہ اس روئیدگی کو اگانے کے لئے تیار کھڑا ہے۔پہاڑوں کی چوٹیاں بھی اس