زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 320 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 320

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 320 جلد دوم نے ایک مجلس شوری بلائی تا جماعت مشورہ دے کہ اس فتنہ کے مقابلہ میں ہم کیا کر سکتے ہیں۔اُس وقت مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم بھی آئے ہوئے تھے انہوں نے سمجھا کہ ایسا نہ ہو کہ کوئی ایسی تحریک کر دی جائے جو ہماری کسی سکیم کے خلاف ہو۔مناسب یہی ہے کہ ہم خود ہی یہ تحریک کر دیں کہ ہائی سکول کو توڑ دیا جائے اور اس کی بجائے علماء کی ایک جماعت تیار کی جائے۔ہائی سکول اور بھی بہت ہیں اور ہمارے بچے ان کی میں تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔اس وقت علماء کی ضرورت ہے اور ان کے تیار کرنے کے لئے ایک دینیات کے سکول کی ضرورت ہے ہائی سکول کی ضرورت نہیں۔عجب یہ ہے کہ وہی لوگ جو انگریزی زبان کے حامی تھے وہی اس بات پر آمادہ ہو گئے کہ ہائی سکول تو ڑ دیا جائے۔صرف حضرت خلیفہ مسیح الاوّل ایک ایسے شخص تھے جن کا خیال تھا کہ ہائی سکول کو توڑنا نہیں چاہنے ہائی سکول بھی قائم رہے اور دینیات کی تعلیم بھی دی جائے اور میرا خیال بھی یہی تھا۔حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کی عادت تھی کہ آپ اپنی بات کا زیادہ پرو پیگنڈا نہیں کرتے تھے ہاں ملنے جلنے والوں سے باتیں کر لیتے تھے لیکن یہ نہیں ہوتا تھا کہ عام لوگوں میں جا کر کوئی لیکچر دیں۔آپ نے ایک مضمون لکھا تا وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تک پہنچ جائے اور آپ کے خیالات کا حضور کو علم ہو جائے۔آپ نے مجھے بلایا اور فرمایا میاں ! سنا ہے کیا باتیں ہو رہی ہیں؟ تمہارا کیا خیال ہے؟ میں نے کہا میں تو اس کا قائل نہیں۔آپ نے فرمایا اللہ کا شکر ہے کہ ہم ایک سے دو ہو گئے۔میں ساری رات سویا نہیں۔میرے دل میں ایک بوجھ سا تھا کہ کوئی میرا ہم خیال نہیں اب تمہاری بات سے یہ خیال معلوم ہوا تو میں نے کہا الحمد للہ میں ایک نہیں رہا بلکہ دو شخص ایسے موجود ہیں جو ہم خیال ہیں۔میں نے ایک مضمون لکھا ہے یہ چیز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس لے جاؤ۔میں وہ مضمون حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے پاس لے گیا۔چنانچہ ایک جلسہ ہوا اور عام طور پر لوگوں نے یہی کہا کہ ہائی سکول کو جاری رکھنا فضول ہے۔آخر دنیا میں اور ہائی سکول بھی موجود ہیں ہمارے بچے وہاں تعلیم حاصل کر سکتے