زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 319
زریں ہدایات (برائے مبلغین) 319 جلد دوم بدل دیں گی۔یہ عزم جونئی پود رکھتی ہے اور کسی حد تک یہ بات قدرتی نظر آتی ہے نو جوانوں کے لئے اس میں بہت بڑا سبق ہے اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ کم از کم تم میں ایک مکھی سے تو زیادہ عزم ہونا چاہئے۔جب شہد کا چھتہ اجاڑا جاتا ہے تو نو جوان مکھیاں انسان کو چیلنج کرتی ہیں کہ تم نے ہمیں اجاڑا ہے لیکن تم ہمارے عزم کو نہیں اجاڑ سکتے ہم اس کے ساتھ ایک نیا چھتہ تیار کریں گی۔اسی طرح ہم ہر مصیبت، ہر آفت ، ہر ابتلاء اور ہر امتحان کے موقع پر اپنی نسلوں اور اولادوں کو کہہ سکتے ہیں کہ اے اشرف المخلوقات کی نسلو! آفات اور مصائب سے گھبرانا نہیں تمہیں کم از کم اتنا عزم تو دکھانا چاہئے جتنا شہد کی مکھیاں دکھاتی ہیں۔اسی طرح ہم اس مثال سے فائدہ اٹھا سکتے تھے اور فائدہ اٹھاتے ہیں اور یہ مثال پیش کر کے نوجوانوں کی ہمتوں کو بلند کر سکتے تھے اور بلند کرتے ہیں لیکن جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی قدرت اور اس کا منشاء کبھی اس سے بڑے معجزے بھی دکھا سکتا ہے تو ہمارا سر خدا تعالیٰ کے سامنے اور زیادہ شکر گزاری کے ساتھ جھک جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں یہی سکول جو اب تعلیم الاسلام ہائی سکول کہلاتا ہے قائم ہوا۔یہ سکول اُس وقت قائم ہوا تھا جب میں ابھی ۹ ۱۰ سال کا تھا۔ہمارے بعض لڑکے آریہ سکول میں پڑھا کرتے تھے جو اُس وقت قائم ہو چکا تھا اور ابھی مڈل تک تھا اور بعض لڑکے گورنمنٹ پرائمری سکول میں پڑھتے تھے جس کا ہیڈ ماسٹر اتفاقی طور پر آریہ تھا اور وہ ہر وقت بچوں کو اپنے مذہب کی تبلیغ کرتا رہتا تھا جس کی وجہ سے طلباء اپنے اپنے گھر جا کر اسی قسم کی باتیں کرتے تھے۔اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اب ہمارے لئے ضروری ہو گیا ہے کہ ایک سکول کھولا جائے۔چنانچہ ایک پرائمری سکول قائم کیا گیا جو اُسی سال مڈل تک ہو گیا اور پھر کچھ عرصہ بعد ہائی سکول بن گیا۔گویا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ہی یہ سکول قائم ہو گیا تھا۔پھر ایک وقت ایسا آیا کہ مخالفین نے جماعت پر شدت سے حملے کرنے شروع کر دیئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا اب ہمیں ان کا مقابلہ کرنے کے لئے نئی جدو جہد کرنی چاہئے اور آپ