زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 318
زریں ہدایات (برائے مبلغین) 318 جلد دوم سر اٹھایا اور یہ باتیں باہر نکلنے کیلئے نہیں۔اور انہوں نے مجھے مجبور کر دیا کہ میں انہیں ان کے قفس سے آزاد کر دوں تا ایک دفعہ پھر وہ ہوا میں پھڑ پھڑ سکیں۔شہد کی مکھیوں کو دیکھو شاید تمہیں نیچرل ہسٹری پڑھائی جاتی ہو تو تم نے پڑھا ہویا پڑھائی نہیں جاتی تو مطالعہ میں یہ بات دیکھی ہو کہ شہد کی مکھیاں ایک ملکہ کے ماتحت ہوتی ہیں۔جب چھتہ شہد سے بھر جاتا ہے اور شہد تیار ہو جاتا ہے تو انسان جو اپنے آپ کو تمام مخلوقات کا مالک سمجھتا ہے شہد کے جمع کرنے اور اسے نکال لینے کے لئے چھتہ پر جاتا ہے اور اُس کے نیچے دھواں رکھ دیتا ہے تا شہد کی مکھیاں اُڑ جائیں یا سمٹ کر ایک طرف ہو جائیں۔شہد کی مکھیوں کی نوجوان پو د وہ نئی پود جو اپنی عمر کو باقی سمجھتی ہے اور اس دنیا میں اپنا ایک زندہ مقصد قرار دیتی ہے وہ ملکہ کی سب سے بڑی بیٹی کو جو اُن کی آئندہ ہونے والی ملکہ ہوتی ہے یا انسانوں کی زبان میں وہ ان کی ولی عہد ہوتی ہے لے کر اُڑ جاتی ہیں اور پیشتر اس کے کہ شہد کا چھتہ تباہ کیا جائے اور اُس سے شہد نکال لیا جائے وہ نیا چھتہ بنالیتی ہیں اور نئے سرے سے اپنی زندگی کو شروع کر دیتی ہیں اور اپنے لئے ایک نیا مقام اور نیا مرکز بنانا شروع کر دیتی ہیں۔یہ خدائی قدرت کا ایک بھاری معجزہ ہے کہ ایک چھوٹا سا جانور جس میں سوائے تھوڑی سی رطوبت کے کچھ بھی نہیں ہوتا ، نہ ہڈیاں ہوتی ہیں نہ فقرات ظھر ہوتے ہیں، نہ سانس لینے کے لئے سینہ ہوتا ہے، نہ جگر اور گردہ ہوتا ہے، اسے مارو تو کچک کر رطوبت نکل جاتی ہے اور تھوڑی سی کھال اور تھوڑے سے پر اور چند چھوٹی چھوٹی ہڈیوں کا مجموعہ جو صرف سر کی جگہ پر پائی جاتی ہیں باقی رہ جاتا ہے۔بظاہر یہ چھوٹا سا کیڑا ہے لیکن کام اور عزم میں انسانوں کی بڑی بڑی سمجھدار اور مہذب قوموں سے بھی زیادہ تنظیم، استعداد اور عزم اپنے اندر رکھتا ہے۔پس یہ قدرت کا ایک بہت بڑا معجزہ ہے مگر اس میں صرف ایک بات پائی جاتی ہے۔صرف ایک پہلو معجزہ کا ہمیں نظر آتا ہے اور وہ یہ ہے کہ مکھیوں کی جوان نسل تباہی اور بر بادی کے آنے پر یہ فیصلہ کر لیتی ہیں کہ ہم مریں گی نہیں اور اپنی خزاں کو بہار سے