زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 314 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 314

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 314 جلد دوم اسی طرح لوگوں کے اعتراضات کی بھی مجھے کوئی ضرورت نہیں ہوگی۔میں صرف یہ دیکھوں گا کہ کمیونزم کے اصل خیالات کیا ہیں اور اس طرح پانچ سو صفحہ کی کتاب میں سے بعض دفعہ پچاس ساٹھ صفحات ہی پڑھنے کے قابل ہوتے ہیں۔بہر حال کتب کا مطالعہ تم اتنا وسیع کرو کہ ہر طالبعلم دو سال کے بعد جب یہاں سے نکلے تو وہ دو دو، تین تین سو کتاب پڑھ چکا ہو اور اس کے دماغ میں اتنا تنوع ہو کہ جب وہ کسی مجلس میں بیٹھے اور کسی مسئلہ پر گفتگو شروع ہو تو وہ یہ نہ سمجھے کہ اس کے سامنے کوئی نئی چیز پیش کی جارہی ہے بلکہ وہ یہ سمجھے کہ یہ تو وہی چیز ہے جو میں پڑھ چکا ہوں۔میں اس موقع پر اساتذہ کو اس امر کی طرف بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ ہماری زنجیر کا سب سے کمزور خانہ اس وقت وہی ہیں۔انہیں اپنے اندر روحانیت پیدا کرنی چاہئے، اپنے اندر دینداری اور محبت باللہ کی روح پیدا کرنی چاہئے۔ان میں بعض ایسے بھی ہیں جو اپنے آپ کو محض نو کر سمجھتے ہیں حالانکہ اگر ہمارا مقصد صرف لڑکوں کو پڑھانا ہوتا تو اس غرض کے لئے غیر احمدیوں کو بھی رکھا جا سکتا تھا۔تمہارا کام صرف لڑکوں کو درسی کتب پڑھا دینا نہیں بلکہ تمہیں اپنے اندر روحانیت پیدا کرنی چاہئے اور تمہیں یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ اس وقت اللہ تعالی اسلام کو دنیا میں غالب کرنا چاہتا ہے۔اس سکیم کے راستہ میں جو شخص بھی روڑ ا بن کر کھڑا ہوگا وہ مارا جائے گا اور اس کا ایمان ضائع چلا جائے گا۔پس اپنے ایمان کو مدنظر رکھتے ہوئے تمہیں سوچ لینا چاہئے کہ تمہارا انجام کیا ہو گا۔آج بے شک تم اپنے ایمانوں کو مضبوط سمجھتے ہو لیکن اگر تمہارے اندر یہی بے حسی رہی تو کسی نہ کسی وقت تمہیں ٹھوکر لگ جائے گی کیونکہ جب تک انسان اپنے فرائض کو نہ سمجھے خدا تعالیٰ کی تلوار اُس کی گردن پر لٹکی ہوئی ہوتی ہے اور اُس کا انجام خطر ناک ہوتا ہے۔بے شک ہم تمہیں اس کام کے بدلہ میں کچھ گزارہ بھی دیتے ہیں مگر یہ گزارہ اصل چیز نہیں۔اصل چیز یہ ہے کہ تمہیں یہ نظر آنا چاہئے کہ ہمیں جو کچھ دے رہا ہے خدا دے رہا ہے۔ہاتھ بے شک بندوں کے ہیں لیکن اِن ہاتھوں کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی تائید اور اس کی