زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 309 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 309

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 309 جلد دوم گا ہک بھی اُس سے سودا خریدتا ہے خواہ اسے مہنگا ملے یا ستا۔اسے کیا مصیبت پڑی ہے کہ دھیلے پیسے کی چیز کے لئے شہر کی طرف بھاگا پھرے۔ہمارا عالم بھی اُسی رنگ میں چل رہا ہے جس رنگ میں ایک چھوٹے گاؤں کا بنیا ہوتا ہے۔اسے احساس ہی نہیں کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے اور اسے کیا کرنا چاہئے۔اس وقت مخالفت کے سمندر میں ایک جوش پیدا ہورہا ہے، اس کی لہریں اٹھنی شروع ہو گئی ہیں، اس کی موجوں میں تلاطم آرہا ہے ، اس کا پانی دیہات اور شہروں اور باغات کی طرف بڑھ رہا ہے مگر وہ آرام سے سوئے ہوئے ہیں۔گویا ان کی مثال بالکل ویسی ہی ہے جیسے انگریزی میں یہ ضرب المثل ہے کہ :۔وو روم جل رہا تھا اور نیر و بانسری بجارہا تھا“ میں تم کو بتاتا ہوں کہ تم اپنے اندر تغیر پیدا کر و۔اگر تم ان کے نقش قدم پر چلے تو سمجھ لو کہ تمہارے لئے موت ہے۔ایمان کے لئے موت نہیں ، دین کے لئے موت نہیں، بچے مخلصوں کے لئے موت نہیں مگر جو ان کے نقش قدم پر چلنے والے ہوں گے اُن کی یقیناً موت ہوگی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دنیا میں ہماری فتح یقینی ہے کیونکہ خدا کا ہاتھ ہمارے ساتھ ہے لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ علماء ہماری فوج ہیں اور جب فوج کے کسی حصہ کی میں غفلت پیدا ہو جائے تو یہ حالت بڑی خطرناک ہوتی ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ ان میں سے بعض کی نہ دین کی طرف توجہ ہے، نہ ان میں خدا تعالیٰ کے عشق کی گرمی ہے ، نہ قومی خدمت کا احساس ہے۔بس سوائے اس کے اور کوئی کام ہی نہیں کہ درسی کتب لڑکوں کو پڑھا دیں اور آرام سے سوئے رہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ میرے پاس رپورٹیں آتی رہتی ہیں کہ بعض دفعہ ان سے سوالات کئے جاتے ہیں تو وہ ان کے جواب نہیں دے سکتے۔اگر واقعہ میں ان کے دلوں میں دین کا درد ہوتا تو وہ پارہ کی طرح اُچھل رہے ہوتے مگر کسی میں کوئی گرمی ، کوئی حدت اور کوئی جوش مجھے نظر نہیں آتا۔اسی طرح جو باہر سے آنے والے مبلغ ہیں ان کو میں یہ نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ وہ اپنے آپ کو اپنے علاقوں کا بادشاہ تصور نہ کیا کریں۔میں نے بے شک اپنے علماء کی تنقیص کی