زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 308
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 308 جلد دوم لئے نمونہ مت سمجھو۔اُن میں یہ احساس ہی نہیں کہ وہ دین کیلئے جدو جہد کریں۔وہ اُسی طرح کھاتے اور پیتے اور آرام سے سوتے ہیں جیسے ایک گاؤں کا بنیا کھاتا پیتا اور سوتا ہے۔حالانکہ ایک گاؤں کے پینے کی زندگی اور نیو یارک یا لندن کے تاجر کی زندگی میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔وہ صبح و شام انگاروں پر کوٹ رہا ہوتا ہے وہ جانتا ہے کہ میرا کن سے مقابلہ ہے اور مجھے کس طرح ان سے فوقیت حاصل کرنی چاہئے۔مجھے یاد ہے میں اپنے طالب علمی کے زمانہ میں ایک دفعہ لاہور گیا وہاں ایک بائیسکلوں کے تاجر مستری موسیٰ صاحب ہوا کرتے تھے جو اپنے کام میں بڑے ہوشیار تھے۔وہ ایک دن دکان میں مجھ سے باتیں کر رہے تھے اور اوپر سے ڈاک والا آیا اور اس نے ایک تاران کے ہاتھ میں دے دیا۔انہوں نے تار پڑھتے ہی فورا بائیسکل لیا اور اس پر سوار ہو کر بڑی تیزی کے ساتھ کہیں باہر نکل گئے۔میں حیران ہوا کہ یہ تارکیسا آیا ہے کہ انہوں نے بات بھی پوری نہیں کی اور بائیسکل لے کر غائب ہو گئے ہیں۔آدھ گھنٹہ کے بعد وہ واپس آئے اور کہنے لگے بڑا اچھا موقع تھا، ہیں ہزار کا آج نفع ہو جانا تھا مگر افسوس کہ کام نہیں بنا۔پھر انہوں نے سنایا کہ بمبئی سے ابھی ہمارے ایجنٹ نے تار دیا تھا کہ ٹائروں کا ریٹ اتنا بڑھ گیا ہے۔میں فوراً بائیسکل پر چڑھ کر بھا گا کہ فلاں دکان پر جتنا مال ہوگا وہ سب کا سب خرید لوں گا اور میرا خیال تھا کہ وہاں ڈا کیا اتنی دیر میں پہنچے گا کہ میں پہلے سودا کرلوں گا مگر ابھی میں اس سے سودے کے متعلق گفتگو ہی کر رہا تھا کہ اوپر سے ڈا کیا آگیا اور اسے بھی تارمل گیا کہ ٹائروں کا ریٹ اتنا بڑھ گیا ہے اور ہمارا سودا ہونے سے رہ گیا ور نہ آج ہمیں ہزار کا نفع ہو جانا تھا۔اب دیکھو کہ یہ کس قسم کے جنون کی حالت ہے اور کتنا جوش اور فکر ہے جو اُن لوگوں میں پایا جاتا ہے۔لیکن ایک گاؤں کے پینے میں کچھ بھی جوش نہیں ہوتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ میرے گاؤں والا مجھ سے ہی سودا خریدے گا۔شہر میں بعض دفعہ ایک چیز آٹھ آنے پر فروخت ہورہی ہوتی ہے اور وہ چار آنے پر دے رہا ہوتا ہے اور بعض دفعہ ایک چیز شہر میں دو آنے کو مل رہی ہوتی ہے اور وہ چار آنے کو دے رہا ہوتا ہے اور