زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 302 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 302

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 302 جلد دوم مقدر ہے۔پس جب ہماری فتح نے دیر سے آنا ہے اور آہستہ آہستہ آتا ہے تو ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی آئندہ نسلوں کی درستی کریں اور انہیں پہلوں سے زیادہ ہوشیار اور پہلوں سے زیادہ کارآمد وجود بنا ئیں۔جب فتح جلدی آجائے تو انسان خیال کر سکتا ہے کہ اگلی نسل کی حکومت کے ماتحت خود بخود نگرانی ہوتی رہے گی لیکن جب فتح آہستہ آہستہ آنے والی ہو اور انسان جانتا ہو کہ میں مر گیا تو میری آئندہ نسل بھی اسی طرح مخالفین کے نرغہ میں گھری ہوئی ہوگی جس طرح میں گھرا ہوا ہوں تو اُس کا فرض ہوتا ہے کہ وہ آئندہ نسل کی درستی کا خاص طور پر فکر کرے۔اور چونکہ ہمارے سامنے یہی خطرہ ہے اس لئے ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے نو جوانوں کے معیار اخلاق اور ان کے معیارِ دین اور ان کے معیار تقویٰ کو زیادہ سے زیادہ بلند ترین اور ان کے اندر پہلوں سے زیادہ احساس قربانی پیدا کریں تا کہ اسلام دشمن پر غالب آئے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اس دنیا میں ہمیشہ کیلئے قائم ہو جائے۔اس وقت ہمارے مشن قریباً ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں اور یہ امر جہاں ہماری عظمت کا موجب ہے وہاں ایک رنگ میں ہمارے لئے خطرہ کا موجب بھی بن رہا ہے کیونکہ ہمارا مرکز کمزور ہے اور بیرونی ممالک میں جماعتیں ترقی کر رہی ہیں۔اگر مرکز میں ہماری تعداد زیادہ ہوتی اور ہمارے اندر اتنی طاقت ہوتی کہ ہم بیرونی ممالک کے بوجھ کو برداشت کر سکتے تو یہ ترقی یقیناً ہماری عظمت کا موجب ہوتی۔مگر اس وقت حالت یہ ہے کہ مرکز طاقتور نہیں اور ہر جگہ کے لوگ چلا رہے ہیں کہ مرکز ہماری مدد کرے۔پس بجائے اس کے کہ یہ وسعت ہماری طاقت کا موجب ہوتی وہ ہماری کمزوری کا موجب بن رہی ہے۔ہٹلر نے اپنے ابتدائی زمانہ میں ایک کتاب لکھی تھی جس کا نام ” میری جدو جہد تھا۔اس کتاب میں اس نے یہ بحث کی ہے کہ عمارت کی اونچائی کا انحصار اس کی بنیاد پر ہوتا ہے۔اگر بنیاد چوڑی اور مضبوط ہو تو اوپر کے حصہ کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔لیکن اگر بنیاد چھوٹی یا کمزور ہوگی تو وہ عمارت ہر وقت خطرہ میں گھری رہے گی اور پھر وہ زیادہ اونچی