زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 296 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 296

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 296 جلد دوم پیدا کریں، اپنے اندر جرات اور بہادری کا مادہ پیدا کریں اور غور اور فکر سے کام لینے کی عادت ڈالیں۔یہ مقاصد ہیں جن کے ماتحت اس قسم کی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔ادھر جو کارکن ان سے کام لے رہے ہیں ان کے فرائض کی طرف بھی اس موقع پر انہیں توجہ دلا دی جاتی ہے اور اس طرح کام لینے والوں اور کام کرنے والوں دونوں کی اصلاح کی ہو جاتی ہے۔یہ امر یا درکھنا چاہئے کہ جو کام ہمارے سپرد کیا گیا ہے وہ اتنی نوعیتوں کا حامل ہے اور اتنا پھیلا ؤ اپنے اندر رکھتا ہے کہ جب تک ہمارا دماغ اس کام کا ہر وقت جائزہ نہ لیتا ر ہے نہ وہ پوری طرح ہمارے ذہنوں میں آ سکتا ہے اور نہ ہم اس کے لئے تیاری کر سکتے ہیں۔یہ ظاہر ہے کہ ہماری جماعت کی بنیاد ایک مامور کے ہاتھ سے رکھی گئی ہے۔ہماری جماعت کوئی سوسائٹی نہیں جسے عام سوسائٹیوں کے طریق پر چلایا جائے۔یہ ایک مذہب ہے اور مذہب بھی ایسا جس کا لوگوں کو سمجھانا بڑا مشکل ہے۔مذہب کا کسی دوسرے کو سمجھانا یوں بھی بڑا مشکل کام ہوتا ہے مگر دوسرے مذاہب میں اور اسلام اور احمدیت میں ایک فرق ہے جس کی وجہ سے ہماری مشکلات ان سے بہت زیادہ ہیں۔دنیا میں جب پہلا نبی آیا تو اُس کا کام بڑا مشکل تھا کیونکہ لوگوں کے سامنے نبوت کی پہلے کوئی نظیر موجود نہیں تھی۔وہ نہیں جانتے تھے کہ الہام کیا ہوتا ہے ، نبوت کیا ہوتی ہے، خدا تعالیٰ سے تعلق کے کیا معنی ہوتے ہیں، لوگوں کا اس پر ایمان لانا کیوں ضروری ہوتا ہے۔مگر جب اُس کی امت قائم ہو گئی تو اگلے نبی کا کام نسبتاً آسان ہو گیا۔پھر تیسرا نبی آیا تو اس کا کام اور بھی آسان ہو گیا کیونکہ لوگ جانتے تھے کہ الہام کیا ہوتا ہے، کتاب کیا ہوتی ہے ، نبوت کیا ہوتی ہے۔صرف ان کی طرف سے یہ سوال اٹھنے لگتا ہے کہ ہمارے ملک میں کسی نبی کی کیا ضرورت ہے یا ہم میں ایسے کونسے نقائص ہیں جن کی وجہ سے تم ہماری اصلاح کے لئے کھڑے ہوئے ہو۔اس طرح سوالات محدود ہوتے چلے جاتے ہیں اور مشکلات کم ہوتی جاتی ہیں۔لیکن اس کے خلاف ہمارے زمانہ میں یہ ایک نئی مشکل پیدا ہو گئی ہے کہ پہلے نبی جو