زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 295
زریں ہدایات (برائے مبلغین) 295 جلد دوم کرتے ہیں۔سودا تیز طبیعت انسان تھے انہوں نے کہا حضور ! ان میں سے بو بھی تو ویسی ہی آتی ہے۔معلوم ہوتا ہے بادشاہ کو قبض کی بیماری ہوگی اور چونکہ ایسا انسان بیٹھے بیٹھے مختلف خیالات میں مبتلا رہتا ہے اسی قسم کے خیالات اسے بھی سو جھتے ہوں گے اور وہ وقت گزارنے کے لئے غزل کہنے لگ جاتا ہوگا۔مگر یہ ظاہر بات ہے کہ جب محرک برا ہوگا تو نتیجہ بھی برا ہوگا۔وہ شخص جس کو شعر کہنے کی تحریک فوارے کرتے ہیں یا چاندنی راتیں کرتی ہیں یا برسات کا موسم کرتا ہے یا باغ کا نظارہ کرتا ہے اور وہ شخص جسے شعر کہنے کی تحریک قبض کرتی ہے ان دونوں کے شعر کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔کیونکہ ایک کا محرک اور ہے اور دوسرے کا محرک اور ہے۔پس سو دانے جو کچھ کہا ٹھیک کہا مگر پھر ڈر کر بادشاہ کی ملازمت چھوڑ کر چلے گئے۔تو خیالات کے اظہار کے بھی بعض مواقع ہوتے ہیں اور ان کے خیالات کے اظہار کے لئے بعض محرکات کی ضرورت ہوتی ہے۔اس وقت بیسیوں مبلغ بیرونی ممالک میں کام کر رہے ہیں اور ان سے بعض دفعہ ا۔کاموں میں غلطیاں بھی ہوتی ہیں۔رپورٹیں آتی ہیں ہم انہیں پڑھتے ہیں تو ہم ان پر ایک آدھ نوٹ دے دیتے ہیں اور بات ختم ہو جاتی ہے۔یہ نہیں ہوتا کہ میں اُس وقت تقریری شروع کر دوں۔پھر چند دنوں کے بعد ان کی طرف سے دوسری رپورٹ آتی ہے اور ہمیں کوئی اور غلطی نظر آتی ہے جس کی طرف انہیں اختصار کے ساتھ توجہ دلا دی جاتی ہے اور بات ختم ہو جاتی ہے۔لیکن ایسے مواقع پر جب مبلغین سامنے موجود ہوں اور محرک نظر آ رہا ہو تو ہمیں بھی اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کا موقع مل جاتا ہے اور کئی مضامین کسی محرک کے نہ ہونے کی وجہ سے ابھی تک بیان نہیں ہوئے ہوتے اس طرح بیان ہو جاتے ہیں اور لوگوں کو فائدہ پہنچ جاتا ہے۔پس ایک طرف نوجوانوں کو ان کے فرائض کی طرف توجہ دلانا اور انہیں تحریک کرنا کہ وہ وہی طریق اختیار کریں جس پر ان کے پہلے بھائی چل چکے ہیں اور دوسری طرف آنے والوں کو توجہ دلانا کہ وہ اپنی غلطیوں کی اصلاح کریں اور اپنے کاموں میں مزید تقویت