زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 25
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 25 جلد دوم کے دشمن، لالچی اور خود غرض ہیں لیکن تب کہیں گے احمدی بہادر ، احمدی لوگوں کے خیر خواہ ، احمدی مخلوق خدا کی خاطر دکھ اٹھانے والے ہیں۔کیونکہ جب احمدی کہیں گے کہ تم جو سزا چاہو ہمارے جسم کو دے لو مگر ہم تمہاری روح کو بچانے کی کوشش کریں گے۔ہم جسم کی سزا برداشت کر لیں گے تاکہ تمہاری روح کو بچا سکیں تو خود بخود ان لوگوں کے دلوں میں محبت کی چنگاری پیدا ہو جائے گی۔ان کے گھروں کی عورتوں کے جذبات رحم و شفقت سے اہل پڑیں گے۔ان سے نئی پوداثر لے گی اور پھر وہ اولا واحمدیت کی مؤید ہوگی۔یہ اصل چیز ہے جو کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ اپنے ارادہ سے دوسروں کی خیر خواہی کے لئے ، دنیا کو گمراہی سے بچانے کے لئے کوشش کی جائے اور کسی دکھ و تکلیف کی پرواہ نہ کی جائے ورنہ یہ کوئی اتنی بڑی قربانی نہیں ہے۔جب دشمن پکڑ کر مار لیتا ہے یہ بھی قربانی ہے مگر اصل قربانی وہی ہے جو انسان خود اپنے اوپر وارد کرے۔اگر دشمن کا مارنا ہی بڑی قربانی ہوتی ہے تو مانا پڑے گا کہ انبیاء سے بڑھ کر ان کے ماننے والوں نے قربانی کی جو دشمنوں کے ہاتھوں مارے گئے۔مگر یہ درست نہیں۔ہم اس کو بھی قربانی سمجھتے ہیں مگر اتنی بڑی نہیں جتنی اپنے نفس سے قربانی کی جائے اور جس کی تیاری میں دشمن کا دخل نہیں ہوتا۔یہ تو نہایت ہی پاجی پن ہے کہ کوئی دشمن صداقت ترک کرنے کے لئے مارے تو مار سے ڈر کر صداقت کو چھوڑ دیا جائے اور کسی شریف انسان سے اس کی توقع نہیں کی جاسکتی۔پس یہ کوئی بڑی قربانی نہیں۔یہ تو دشمن نے زبر دستی پکڑ کر جو چاہا کیا لیکن جب ہم خود بخود دشمن کے پاس جاتے ہیں تا کہ اسے ہدایت ہو اور یہ جانتے ہوئے جاتے ہیں کہ ہمیں مار پڑے گی، تکلیف ہوگی ، دکھ پہنچے گا اور پھر ایسا ہی ہو تو یہ بہت شاندار قربانی ہے کیونکہ اس کا ہر جز و هما را پیدا کیا ہوا ہے۔حالات سے مجبور ہو کر نہیں بلکہ خود حالات پیدا کر کے ہم نے قربانی پیش کی۔دوسری بات جو میں کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ مبلغین ایک غلطی کرتے چلے آ رہے ہیں اور وہ غلطی برابر چلی جا رہی ہے۔خوب اچھی طرح یا درکھنا چاہئے کہ ہم کبھی کامیاب