زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 24
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 24 جلد دوم دل سے بھی آواز نکلے کہ آپ جو چاہیں ہم سے سلوک کریں مگر ہمیں آپ کی محبت مجبور کرتی ہے کہ آپ کی خدمت کریں اس وقت تک احمدیت کی پہلی بنیاد قائم نہیں ہو سکتی۔اور جب یہ قائم ہو جائے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت احمدیت کو دبا نہیں سکتی۔اللہ تعالیٰ کا کلام ہمیشہ ہی كَلِمَةُ اللهِ هِيَ الْعُلْيَاءِ کا مصداق ہوتا ہے لیکن اس وقت ہماری انسا کمزوری دور ہو جائے گی اور ہم کامیاب ہو جائیں گے۔دلائل کوئی چیز نہیں اصل چیز یہی ہے کہ مخالفت برداشت کرو، دکھ اور تکلیف اٹھاؤ اور لوگوں کو تبلیغ کرو۔جب ہر جگہ، ہر شہر، ہر قصبہ اور ہر گاؤں میں یہ نظارے نظر آئیں گے کہ احمدی ماریں کھائیں گے، گالیاں سنیں گے ، دکھ اٹھائیں گے اور تبلیغ کریں گے تو شدید سے شدید مخالف بھی متاثر ہو جائیں گے۔اور جو لوگ ظلم کر رہے ہیں ان سے کہیں گے کہ انسانیت کو کیوں بدنام کرتے اور ان کو دکھ دیتے ہو۔ان کی محبت کی قدر کرو اور انسانیت سے پیش آؤ۔دیکھو وہ عقبہ اور شیبہ جو اسلام کے شدید دشمن تھے جب بدر کی لڑائی کا موقع آیا جبکہ ابو جہل نے لوگوں کو ایک مقتول کا بدلہ لینے کے لئے اکسایا تھا تو وہ تیار ہو گئے کہ مقتول کے وارثوں کو ہم خود خون بہا دے کر راضی کر لیتے ہیں مگر مسلمانوں سے جنگ نہ کی جائے۔انہوں نے یہ بھی کہا یا درکھو تم مسلمانوں کو ڈرا نہیں سکتے۔وہ یا تو تمہیں مار دیں گے یا خود مر جائیں گے۔اگر تم چاہتے ہو کہ ہر بھائی اپنے بھائی کوقتل کرے تو ی لڑو ورنہ جنگ سے باز آ ؤ - 6 یہ اشد ترین دشمن کہہ رہے تھے۔اس لئے کہ انہوں نے مسلمانوں کی قربانی کا نظارہ دیکھا ہوا تھا۔اسی طرح اگر ہماری جماعت کے لوگ قربانی کا نظارہ دکھائیں ، مخالف پتھروں سے ہم پر حملہ کریں اور ہم کلمہ خیر کے ساتھ ان کی طرف بڑھیں ، وہ گالیاں دیں ہم دین کی باتیں سنائیں، وہ غیط وغضب سے پُر گفتگو کریں اور ہم محبت اور الفت کی باتیں کریں تو انہی میں سے ایسے لوگ کھڑے ہو جائیں گے جو انہیں کہیں گے کہ تمہاری طرف سے یہ سلوک انسانیت پر ظلم ہے اس سے باز آ جاؤ۔اب تو وہ کہتے ہیں کہ احمدی مسلمانوں