زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 283
زریں ہدایات (برائے مبلغین) 283 جلد دوم کر دیئے جائیں گے۔لٹریچر شائع ہونا شروع ہو جائے گا اور اس کے بعد ایک انسان اسلام کی آواز کو اس طرح نہیں سنے گا جیسے اجنبی آواز ہوتی ہے۔بلکہ وہ اس آواز کو اس طرح سنے گا جیسے ایک شناخت شدہ آواز ہوتی ہے اور ایسی آواز کا انکار اتنا آسان نہیں ہوتا جتنا ایک منفرد آواز کا انکار آسان ہوتا ہے۔یہی معنی اس پیشگوئی کے ہیں کہ اُس کی وقت ایمان قبول کرنا اتنا مشکل نہیں رہے گا جتنا پہلے ہوا کرتا تھا۔اُس وقت اسلام پھیلانے والے بڑی کثرت سے پھیل جائیں گے۔لوگ اسلام کی تعلیم سے مانوس ہو جائیں گے اور اسلام قبول کرنا ان کے لئے پہلے جیسا دو بھر نہیں رہے گا۔یہ مفہوم ہے جو اس پیشگوئی کا ہے۔پھر وہ زمانہ بھی آجائے گا جب اس پیشگوئی کا دوسرا بطن پورا ہوگا اور مغرب سے اسلام کے مبلغ نکلنے شروع ہوں گے اور مغرب میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو بجائے اسلام کو مٹانے کے اسلام کی تبلیغ کے لئے اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوں گے۔پھر وہ زمانہ بھی آئے گا جب اس دنیا پر صرف اشرار ہی اشرار رہ جائیں گے اور جسمانی سورج بھی مشرق کی بجائے مغرب سے طلوع کرے گا اور دنیا تباہ ہو جائے گی۔یہ سارے بطن ہیں جو اپنے اپنے وقت پر پورے ہوں گے۔لیکن میں سمجھتا ہوں اس کا ایک بطن یہ بھی ہے جو شمس صاحب کے آنے سے پورا ہوا اور جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کی پیشگوئی کے مطابق ہمارا اس وقت کا روحانی حملہ جارحانہ حملہ ہوگا جو زیادہ سے زیادہ قوی ہوتا چلا جائے گا۔پس ہماری جماعت کے دوستوں پر بھی اور جامعہ احمدیہ اور مدرسہ احمدیہ کے طلباء پر بھی بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔جب جارحانہ اقدام کا وقت آتا ہے تو یکے بعد دیگرے قوم کے نوجوانوں کو قربانی کی بھینٹ چڑھایا جاتا ہے۔جب لڑائی نہیں ہوتی اُس وقت فوجوں کی اتنی ضرورت نہیں ہوتی۔لیکن جب جارحانہ اقدام کا وقت آتا ہے تو جس طرح ایک تنور والا اپنے تنور میں پتے جھونکتا چلا جاتا ہے اسی طرح نو جوانوں کو قربانی کی آگ میں جھونکنا پڑتا ہے اور یہ پرواہ نہیں کی جاتی کہ ان میں سے کون بچتا ہے